لندن(نیوز ڈیسک)پاکستانی سیاست کا ایک بڑا اور متنازعہ نام، الطاف حسین، ایک بار پھر خبروں کی زینت بنے جب سوشل میڈیا پر یہ افواہیں گردش کرنے لگیں کہ وہ لندن میں انتقال کر چکے ہیں۔ جمعے کے دن ان افواہوں نے خاص طور پر ٹوئٹر (ایکس) اور فیس بک پر ہلچل مچا دی۔ مگر جلد ہی ان افواہوں کی حقیقت سامنے آ گئی، جب ایم کیو ایم (لندن) کے قریبی ذرائع اور ترجمانوں نے واضح طور پر انہیں بے بنیاد قرار دیا۔

مصطفیٰ عزیز آبادی، جو کہ الطاف حسین کے قریبی ساتھی اور ایم کیو ایم لندن کے ترجمان ہیں، نے اپنے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک بیان جاری کیا جس میں انہوں نے ان افواہوں کی تردید کی اور عوام کو الطاف حسین کی اصل طبی صورتحال سے آگاہ کیا۔

الطاف حسین کی موجودہ طبی حالت
بیان کے مطابق الطاف حسین اس وقت لندن کے ایک مقامی اسپتال میں زیرِ علاج ہیں، جہاں ان کی بلڈ ٹرانسفیوژن (خون کی منتقلی) سمیت دیگر میڈیکل ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ ان ٹیسٹس میں:

بلڈ ٹیسٹ

ای سی جی (ECG)

سی ٹی اسکین

ایکسرے

الٹراساؤنڈ

شامل ہیں، جو کہ ان کی مکمل طبی تشخیص کا حصہ ہیں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ان کے ابتدائی معائنے کے بعد ڈاکٹروں نے مزید تشخیصی مراحل تجویز کیے جنہیں مکمل کر لیا گیا ہے۔ فی الحال الطاف حسین ڈاکٹرز کی قریبی نگرانی میں ہیں اور ان کی حالت مستحکم ہے۔

ذہنی دباؤ اور موجودہ چیلنجز
مصطفیٰ عزیز آبادی نے یہ بھی بتایا کہ الطاف حسین پچھلے کئی مہینوں سے شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ ان پر نہ صرف سیاسی بلکہ قانونی اور مالی دباؤ بھی ہے، جو ان کی صحت کو متاثر کر رہے ہیں۔

خاص طور پر:

لندن میں جاری عدالتی مقدمات

پارٹی کی سیاسی سرگرمیوں میں محدود شرکت

مالی مشکلات

یہ تمام عناصر ان کے ذہنی و جسمانی دباؤ کی وجوہات میں شامل ہیں۔ ترجمان نے مداحوں اور پارٹی کارکنوں سے الطاف حسین کی صحتیابی کے لیے دعا کی اپیل بھی کی ہے۔

سوشل میڈیا پر وائرل افواہوں کی حقیقت
افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر اکثر بغیر تحقیق کے خبریں وائرل کر دی جاتی ہیں، جن کے منفی اثرات صرف فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ ایک بڑی برادری، سیاسی جماعت اور ان کے چاہنے والوں تک بھی پھیلتے ہیں۔

بریکنگ : اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور قوم کی دعاؤں سے ایم کیو ایم کے بانی و قائد جناب الطاف حسین کی طبیعت بہتر ہورہی ہے ۔
الطاف بھائی کے بارے میں سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی افواہوں میں کوئی صداقت نہیں، کارکنان و عوام اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھیں pic.

twitter.com/ypinrRVefD

— Mustafa Azizabadi (@azizabadi) July 11, 2025

افواہ کی بنیاد:
جمعے کے روز کچھ غیر مصدقہ سوشل میڈیا پوسٹس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ الطاف حسین انتقال کر چکے ہیں۔ یہ پوسٹس بغیر کسی ثبوت کے وائرل ہوئیں، جس پر کئی اہم سوشل میڈیا پیجز نے بغیر تصدیق کے رپورٹ کرنا شروع کر دیا۔

حقیقت:
ایم کیو ایم لندن کے تمام معتبر ذرائع نے ان دعوؤں کی کھلے الفاظ میں تردید کی، اور واضح کیا کہ الطاف حسین زندہ ہیں اور طبی نگہداشت میں ہیں۔

برطانیہ میں سیاسی جلاوطنی اور شہریت
الطاف حسین 1990 کی دہائی سے برطانیہ میں خود ساختہ جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ انہیں برطانوی شہریت حاصل ہے اور وہ لندن میں مقیم ہیں۔ گزشتہ کئی سالوں میں وہ پاکستانی سیاست میں براہ راست شرکت تو نہیں کرتے لیکن ان کا اثر اب بھی ایم کیو ایم کے بعض حلقوں پر قائم ہے۔

ان پر برطانیہ میں بھی مختلف نوعیت کے مقدمات قائم ہوئے، جن میں نفرت انگیز تقریر اور منی لانڈرنگ جیسے الزامات شامل ہیں۔ یہ مقدمات بھی ان کی موجودہ ذہنی کیفیت پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔

Post Views: 4

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کہ الطاف حسین سوشل میڈیا پر الطاف حسین کی ایم کیو ایم

پڑھیں:

میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا

ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔

سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار

ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ

متعلقہ مضامین

  • ایچ ای سی نے ڈیٹا لیک سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے وا لی خبروں کی تردید کردی
  • ڈیٹا لیک ہونے کی خبریں؛ہائر ایجوکیشن کمیشن کی وضاحت آگئی
  • انتقال کی خبریں بے بنیاد،طاہرہ سید نے ویڈیو پیغام جاری کر دیا
  • طاہرہ سید کے انتقال کی افواہیں، گلوکارہ کا ویڈیو پیغام سامنے آگیا
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • اے این پی نے سوشل میڈیا پر مذہبی اشتعال انگیز مہم کیخلاف این سی سی آئی اے میں درخواست جمع کرادی
  • میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت