پنجاب کے شہری مر رہے ہیں اور انسانی حقوق کے علمبردار سو رہے ہیں: عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور: وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پنجاب کے شہریوں کو بلوچستان میں شناختی کارڈ دیکھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے اور انسانی حقوق کے علمبردار اس ظلم پر خاموشی کی چادر اوڑھے ہوئے ہیں۔
لاہور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں ایک بار پھر 9 پنجابیوں کو ان کی شناخت کی بنیاد پر گولیوں کا نشانہ بنایا گیا، ایک ہی گھر سے تین جنازے اٹھنا کسی المیے سے کم نہیں، شہدا کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کرتے ہیں اور ریاست کو اب اس وحشت کا سخت ترین جواب دینا ہوگا۔
انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کے چیمپئنز کو ہر جگہ مظلوم نظر آتے ہیں لیکن جب پنجاب کے بے گناہ لوگ چن چن کر مارے جاتے ہیں تو انہیں گویا نیند کی گولیاں دے دی جاتی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز کی قیادت میں پنجاب حکومت کی اولین ترجیح صحت کا شعبہ ہے، وزیراعلیٰ دن رات صوبے میں صحت کی سہولیات بہتر بنانے میں مصروف ہیں۔
عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ صحت کارڈ بدستور نجی اسپتالوں میں استعمال ہو رہا ہے، جبکہ سرکاری اسپتالوں میں اس کے غلط استعمال کے باعث اقدامات کیے گئے ہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ صحت کارڈ سے متعلق آڈٹ رپورٹس جلد پبلک کی جائیں گی تاکہ تمام حقائق عوام کے سامنے آئیں۔
صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کی احتجاجی کالز کا پنجاب حکومت پر کوئی اثر نہیں پڑا اور نہ ہی آئندہ پڑے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ تحریک انصاف اپنی تحریک کے لیے خیبرپختونخوا حکومت سے فنڈز نکالنے کی کوشش کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان میں جاری دہشت گردی کے خاتمے کے لیے سخت اور فوری اقدامات ناگزیر ہیں، روزانہ کی بنیاد پر دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ہو رہے ہیں اور ریاست کو اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے پوری قوت استعمال کرنی چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: انہوں نے
پڑھیں:
پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘حکومتی دعوﺅں کے برعکس حالیہ بارشوں میں پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے‘کرنٹ لگنے سے 3 اور آسمانی بجلی گرنے سے 2 افرادجاں بحق ہوئے‘ بارش کے پانی میں ڈوبنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا جبکہ 38 مکانات متاثر ہوئے.(جاری ہے)
پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب نے مون سون بارشوں کے باعث نقصانات سے متعلق رپورٹ جاری کی ہے ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں اب تک 21 شہری جاں بحق اور 154 زخمی ہوئے، بارشوں میں چھتیں گرنے سے 15 افراد جاں بحق ہوئے ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ جاں بحق افراد کے خاندانوں کو 10 سے 50 لاکھ روپے تک امداد فراہم کی جا رہی ہے. ادھرمحکمہ موسمیات نے ملک بھر میں موسلا دھار بارش کی پیش گوئی کر تے ہوئے نشیبی علاقے زیر آب اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات ظاہر کیئے ہیں رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پورے ملک میں تیز ہواﺅں اور گرج چمک کے ساتھ بیشتر مقامات پر وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے. صوبائی دارلحکومت لاہور میں آج ہونے والی بارش سے واپڈا ٹاﺅن‘ جوہر ٹاﺅن‘ گلبرگ اور ڈیفنس ‘ او پی ایف سوسائٹی‘ ایل ڈی اے ایونیو‘ فیصل ٹاﺅن‘ماڈل ٹاﺅن‘علامہ اقبال ٹاﺅن‘مسلم ٹاﺅن‘گارڈن ٹاﺅن‘سبزہ زار‘ملتان روڈسمیت شہر بھر میں تیزبارش سے شہر کی مرکزی شاہرائیں ندیوں کا منظرپیش کرتی رہیں جبکہ شہر کے نشیبی علاقوں میں پانی گھر میں داخل ہوگیا. شمالی لاہوراور اندرون شہر میں بھی بارش کی پانی کی وجہ سے معمولات زندگی شدید متاثرہوئے . محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند گھنٹوں کے دوران بھی مزید بارش کا امکان ہے محکمہ موسمیات کے مطابق شام کے وقت درجہ حرات 28ڈگری ریکارڈ کیا گیا جبکہ شہر میں 11 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چل رہی ہیں تاہم ہوا میں نمی کا تناسب 95 فیصد تک پہنچ چکا ہے، جس کے باعث موسم مرطوب مگر خوشگوار محسوس کیا جا رہا ہے.