" جس دن جمائمہ خان پاکستان میں عمران خان کی رہائی کیلئے آگئیں ، وہ دن عمران خان اور بشریٰ بی بی کی شادی کا آخری دن ہوگا: فخردرانی
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
اسلام آباد (ویب ڈیسک) سینئر صحافی فخر درانی نے کہاہے کہ " جس دن جمائمہ خان پاکستان میں عمران خان کی رہائی کیلئے آگئیں ، وہ دن عمران خان اور بشریٰ بی بی کی شادی کا آخری دن ہوگا ،جب سے بشریٰ کی شادی ہوئی ، عمران خان اقتدار میں بھی رہے، بچے تک پاکستان نہیں آئے ہیں"۔
نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں ان سے استفسار کیاگیا کہ کیا کسی سٹیج پر جمائما بھی عمران خان کی رہائی کی تحریک لیڈ کریں گی یا کرسکتی ہیں؟فخر درانی کاکہناتھاکہ جس دن جمائما، عمران کی رہائی کے لیے پاکستان آگئیں، اس دن بشریٰ اور عمران کی شادی کا آخری دن ہوگا، وہ جیل سے رہا ہوں یا نہ ہوں، یہ الگ بات ہے لیکن اس کے نتائج بتا رہاہوں، عملی طورپر دیکھا جائے تو جب سے شادی ہوئی، بچے پاکستان نہیں آئے،عمران خان کی حکومت کے دوران بھی نہیں آئے ، اس وقت توسیکیورٹی خدشات بھی نہیں تھے، ریاست کا پروٹوکول مل سکتاتھا۔
فخردرانی کامزید کہناتھاکہ عمران خان کو بتایا گیا تھا کہ ان(بشریٰ بی بی) کے ساتھ شادی کی وجہ سے عمران خان اقتدار میں آئیں گے، فوائد بتاتے گئے، یہ بھی اسی کا نتیجہ ہے کہ جمائما تو دور بچے بھی نہیں آئے، جمائما پاکستان اور پاکستانی سوسائٹی کو سمجھتی ہیں، جب بھی عمران مشکل میں ہوتے ہیںاخلاقی سپورٹ کرتی ہیں، لیکن پاکستان میں آکر کسی احتجاج کی قیادت کریں، ایسا ممکن نہیں۔
پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی ارکان کی نا اہلی، حکومت اور اپوزیشن کے پارلیمانی مذاکرات آج
جمائمہ خان جس دن پاکستان میں عمران خان کی رہائی کیلئے آگئیں اس دن عمران خان اور بشریٰ بی بی کی شادی کا آخری دن ہوگا ، فخر درانی pic.
مزید :
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: عمران خان کی رہائی کی پاکستان میں کی شادی کا نہیں ا ئے دن ہوگا
پڑھیں:
اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی(bushra bibi) کے درمیان ہفتہ وار ملاقات کرائی گئی، جو تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔
جیل ذرائع کے مطابق ملاقات جیل کے کانفرنس روم میں ہوئی جہاں دونوں نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات جیل حکام کی نگرانی میں مقررہ ضابطوں کے مطابق کرائی گئی۔
دوسری جانب ملاقات کے دن کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے کسی وکیل یا خاندان کے دیگر افراد کی ملاقات نہ ہو سکی۔ جیل ذرائع کے مطابق معمول کی ملاقاتوں کے حوالے سے سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات برقرار رہے۔
ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے نامزد نمائندے اور صوبائی حکومت کے بعض عہدیدار بھی اظہارِ یکجہتی کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے، تاہم انہیں بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔
مزید پڑھیں:فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
اسی دوران بانی پی ٹی آئی کی بہنیں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی اڈیالہ جیل پہنچیں، تاہم پولیس نے انہیں فیکٹری ناکے سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں جیل تک رسائی نہیں دی گئی۔