وزیر اعظم کا بارشوں اور سیلابی صورتحال سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات پر اظہار افسوس
اشاعت کی تاریخ: 22nd, July 2025 GMT
—فائل فوٹو
وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے ملک بھر میں بارشوں اور سیلابی صورتحال سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات اور اسلام آباد کی ہاؤسنگ سوسائٹی میں باپ اور بیٹی کے گاڑی سمیت سیلابی پانی میں بہہ جانے کے واقعے پر دکھ کا اظہار کیا ہے۔
شہباز شریف نے اسلام آباد کی ہاؤسنگ سوسائٹی میں نالے میں بہنے والے باپ اور بیٹی کے ریسکیو کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔
وزیر اعظم نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشنز تیز تر کرنے اور حادثات میں زخمی ہونے والوں کو فوری طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔
نالے میں کار سمیت بہہ جانے والے افراد گاڑی سے مدد کے لیے آوازیں لگاتے رہے، کار سوار افراد نے برساتی نالے کے قریب سے گاڑی گزارنے کی کوشش کی
شہباز شریف کی جانب سے این ڈی ایم اے کو صوبوں اور متعلقہ محکموں سے مسلسل رابطے میں رہنے اور انہیں تمام تر ضروری سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ متاثرہ عوام تک فوری ریلیف پہنچایا جائے اور آنے والے دنوں میں کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تمام تیاریاں مکمل رکھی جائیں۔
واضح رہے کہ اسلام آباد کی ایک ہاؤسنگ سوسائٹی میں کار سوار 2 افراد برساتی نالے میں بہہ گئے۔ بتایا جارہا ہے کہ دونوں باپ بیٹی تھے۔
نالے میں کار سمیت بہہ جانے والے باپ بیٹی مدد کے لیے آوازیں لگاتے رہے، کار سوار افراد نے برساتی نالے کے قریب سے گاڑی گزارنے کی کوشش کی، پانی کا بہاؤ تیز ہونے پر دونوں کار سمیت پانی میں بہہ گئے۔
ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ پانی میں بہہ جانے والے افراد کی تلاش کے لیے آپریشن شروع کر دیا ہے۔ پولیس، ہاؤسنگ سوسائٹی کا عملہ، ریسکیو 1122 اور غوطہ خور ٹیم نے تلاش شروع کر دی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ہاؤسنگ سوسائٹی برساتی نالے نالے میں کار سوار بہہ جانے میں کار نے والے میں بہہ کے لیے
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔