لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن )سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی نے تحریک انصاف کے رہنماوں کو گزشتہ شب 9 مئی کیسز میں سنائی جانے والی سزاؤں پر رد عمل جاری کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے اسیر رہنماوں کو حوصلہ رکھنے کا مشورہ دیا ہے اور کہا کہ آپ کے کیسز کا بھی وہ انجام ہو گا جو میرے کا ہوا تھا ۔

تفصیلات کے مطابق ایکس پر جاری پیغام میں جاوید ہاشمی کا کہناتھا کہ ’’تحریکِ انصاف کے بہادر شیروں، جنہیں 10، 10 سال کی قید ہوئی ہے، آپ میں سے کئی ہمارے مستقبل کے لیڈر ہیں۔ آپ نے مایوس نہیں ہونا۔ مجھے بھی 23 سال کی قید ہوئی تھی، اور آپ کے مقدمات کا انجام بھی وہی ہوگا جو میرے کیس کا ہوا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ آپ کا لیڈر خود بھی ڈٹ کر مقابلہ کر رہا ہے۔ ملک میں اس وقت مارشل لاء کا دور ہے، اور جمہوریت صرف کاغذوں میں باقی ہے۔ تحریکِ انصاف اور اس کے کارکنوں کو میرا سلام‘‘۔

آئرلینڈ سیریز کیلئے پاکستان ویمن ٹیم کا 15 رکنی سکواڈ کا اعلان

تحریکِ انصاف کے بہادر شیروں، جنہیں 10، 10 سال کی قید ہوئی ہے—آپ میں سے کئی ہمارے مستقبل کے لیڈر ہیں۔ آپ نے مایوس نہیں ہونا۔ مجھے بھی 23 سال کی قید ہوئی تھی، اور آپ کے مقدمات کا انجام بھی وہی ہوگا جو میرے کیس کا ہوا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ آپ کا لیڈر خود بھی ڈٹ کر مقابلہ کر رہا ہے۔…

— Javed Hashmi (@JavedHashmiJH) July 23, 2025

یاد رہے کہ گزشتہ شب انسداد دہشتگردی عدالت نے نے یاسمین راشد اور محمود رشید سمیت دیگر پی ٹی آئی رہنماوں کو 10، 10 سال قید کی سزا سنائی تھی جبکہ شاہ محمود قریشی کو بری کر دیا گیا تھا ۔

مزید :.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: سال کی قید ہوئی

پڑھیں:

نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا

سپریم کورٹ نے نیب قانون میں کی گئی ترامیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق اہم مقدمے کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیتے ہوئے قرار دیا ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) سے متعلق تمام مقدمات اب وفاقی آئینی عدالت میں سنے جائیں گے۔

جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ نیب قانون میں ترامیم کے بعد سپریم کورٹ کو نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں رہا، اس لیے نیب سے متعلق تمام زیر التوا اور آئندہ مقدمات وفاقی آئینی عدالت کو منتقل کیے جائیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:ایرانی ڈیزل اسمگلنگ کیس: وفاقی آئینی عدالت نے اہم سوالات اٹھا دیے

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں نیب اور وفاقی حکومت کا مؤقف درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 175، نیب آرڈیننس کے سیکشن 32 اور 32 اے کے تحت نیب مقدمات کی سماعت کے لیے وفاقی آئینی عدالت ہی مجاز فورم ہے۔

سپریم کورٹ نے اس معاملے پر فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا، جو جمعہ کو سنایا گیا۔

اس فیصلے کے بعد نیب سے متعلق تمام مقدمات کی سماعت اب وفاقی آئینی عدالت میں ہوگی، جبکہ سپریم کورٹ ان مقدمات کی سماعت نہیں کرے گی۔ یہ فیصلہ نیب مقدمات کے عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق ایک اہم آئینی نظیر قرار دیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی بطور فور سٹار جنرل ترقی، کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ مقرر
  • پٹرول کی قیمت میں 4 روپے اضافے پر شہری مایوس، فوری ریلیف کا مطالبہ
  • جنرل عامر رضا نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کے نئے کمانڈر مقرر
  • فلک جاوید اور صنم جاوید کےخلاف ٹویٹ کیس کی سماعت ملتوی
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • سندھ کابینہ نے صوبے کے سرکاری ملازمین کے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کر دیا ہے، شرجیل میمن