پاکستان اور افغان طالبان کے مذاکرات ایک نشست میں مکمل نہیں ہوسکتے، سہیل شاہین
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
افغان طالبان کے نمائندے سہیل شاہین نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے مذاکراتی وفود اب بھی ترکی کے شہر استنبول میں موجود ہیں تاہم یہ مذاکرات محض ایک نشست میں مکمل ہوجانا ممکن نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اگر بھارت نے پاکستان پر حملے کے لیے افغانستان کا استعمال کیا تو منہ توڑ جواب دیا جائے گا، پاکستان
جمعرات کو بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے افغان طالبان نمائندے نے کہا کہ تاہم ان کے درمیان براہ راست بات چیت فی الحال نہیں ہو رہی۔
سہیل شاہین نے بتایا کہ دونوں وفود الگ الگ ہوٹلوں میں مقیم ہیں اور صرف میزبان ملک ترکی ہی ان سے رابطے میں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ عمل وقت طلب ہے اور ایسے مذاکرات ایک ہی نشست میں مکمل نہیں کیے جا سکتے۔
مزید پڑھیے: افغانستان سے پاکستان پر حملہ ہوا تو بھرپور جواب دیں گے، وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ
یاد رہے کہ بدھ کے روز پاکستان کی جانب سے اعلان کیا گیا کہ افغان طالبان کے ساتھ ہونے والے مذاکرات بے نتیجہ رہے ہیں۔ بعد ازاں وزیر دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان کے پاس طالبان حکومت کے خلاف طاقت کے استعمال کی مکمل صلاحیت موجود ہے تاہم وہ ایسا قدم اٹھانے کا ارادہ نہیں رکھتا۔
پاکستانی سرکاری ذرائع کے مطابق ترکیہ کی درخواست پر اسلام آباد نے مذاکراتی عمل جاری رکھنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
مزید پڑھیں: افغان طالبان ہماری تجاویز سے متفق مگر تحریری معاہدہ کرنے پر تیار نہیں، رانا ثنااللہ
سہیل شاہین نے بتایا کہ دونوں فریق اب اپنی اپنی قیادت سے مشاورت کے بعد مذاکرات کے اگلے مرحلے کی تیاری کریں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاک افغان مذاکرات پاکستان طالبان مذاکرات ترکیہ نمائندہ طالبان سہیل شاہین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاک افغان مذاکرات پاکستان طالبان مذاکرات ترکیہ افغان طالبان
پڑھیں:
ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات معطلی کی رپورٹس کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ جعلی خبریں کہ ایران اور امریکا کے درمیان چند روز قبل بات چیت بند ہوئی ہے، یہ سب غلط اور بے بنیاد خبریں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے درمیان بات چیت مسلسل جاری ہے جو چار دن پہلے، تین دن پہلے، دو دن پہلے، ایک دن پہلے اور آج بھی جاری رہے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات کے حوالے سے کہا کہ یہ کہاں تک پہنچتے ہیں کوئی نہیں جانتا لیکن میں نے ایران کو کہا ہے کہ کسی نہ کسی صورت آپ معاہدہ کریں، آپ گزشتہ 47 سال سے یہی کر رہے ہیں اور اس کو کسی صورت مزید جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔
https://truthsocial.com/@realDonaldTrump/posts/116681581361115247قبل ازیں امریکی سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کو بتایا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں چند ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے اور اس کے لیے ماہرین کی ٹیم درکار ہوگی جو معاملات طے کرے گی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کے لیے بغیر ٹول کے آبنائے ہرمز بحال کرنے کی ضرورت ہے جبکہ امریکا نے آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے ایران کو پابندیوں میں نرمی کی پیش کش نہیں کی ہے۔