بابوسر ٹاپ سیلاب میں بہہ جانیوالے ڈاکٹر مشعال کے بیٹے کی لاش 3 دن بعد مل گئی
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
ویب ڈیسک: بابوسر ٹاپ پر سیلاب میں جاں بحق ہونے والی خاتون ڈاکٹر مشعال فاطمہ کے سیلاب میں لاپتا ہونے والے 3 سالہ بیٹے کی لاش 3 روز بعد مل گئی۔
رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر مشعال فاطمہ کے بیٹے عبد الہادی کی لاش کو کل شام 7 بجے مقامی افراد نے بابوسر کے قریب ڈاسر کے مقام پر دیکھا اور حکام کو اس حوالے سے آگاہ کیا۔
گلگت بلتستان اسکاؤٹس نے اطلاع ملنے پر 3 سال کے عبد الہادی کی لاش کو نالے سے نکال کر چلاس کے ہسپتال منتقل کیا۔
میٹرک امتحان میں فیل ہونے پر طالبعلم نے بڑا قدم اٹھالیا
واضح رہے کہ چند روز قبل لودھراں سے پکنک منانے کیلئے جانے والی فیملی سکردو سے واپس آتے ہوئے بابوسرٹاپ کے مقام پر سیلابی ریلے میں بہہ گئی تھی۔
سیلابی ریلے میں بہہ کر ڈاکٹر مشعال فاطمہ اور ان کا دیور فہد اسلام جاں بحق ہوئے تھے جب کہ ریلے میں ڈاکٹر مشعال فاطمہ کا 3 سالہ بیٹا عبدالہادی بھی بہہ گیا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: ڈاکٹر مشعال فاطمہ کی لاش
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔