اسلام آبادہائیکورٹ نے توہین مذہب کے الزامات پرکمیشن تشکیل دینے کے فیصلے پر عملدرآمد روک دیا
اشاعت کی تاریخ: 24th, July 2025 GMT
اسلام آبادہائیکورٹ نے توہین مذہب کے الزامات پرکمیشن تشکیل دینے کے فیصلے پر عملدرآمد روک دیا WhatsAppFacebookTwitter 0 24 July, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(سب نیوز) ہائیکورٹ نے توہین مذہب کے الزامات پر کمیشن تشکیل دینے کے فیصلے پر عملدرآمد روک دیا۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس خادم حسین اور جسٹس اعظم خان نے حکم جاری کرتے ہوئے کمیشن کی تشکیل کاجسٹس سردار اعجاز اسحاق کا فیصلہ معطل کر دیا۔راو عبدالرحیم ایڈووکیٹ نیکمیش کی تشکیل کیخلاف انٹراکورٹ اپیل دائرکی تھی۔
خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق نے توہینِ مذہب کے مقدمات کی تحقیقات کیلئے کمیشن تشکیل دینے کی درخواستوں پر سماعت کی تھی اور درخواستیں منظور کرتے ہوئے حکومت کو کمیشن تشکیل دینے کا حکم دیا تھا۔اسلام آباد ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت کو 30 دن میں کمیشن تشکیل دینے کا حکم دیا اور کہاکہ وفاقی حکومت کا تشکیل کردہ کمیشن 4 ماہ میں اپنی کارروائی مکمل کرے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرمستونگ میں سیکیورٹی فورسزکا آپریشن ،3دہشت گرد ہلاک، میجر اور سپاہی شہید مستونگ میں سیکیورٹی فورسزکا آپریشن ،3دہشت گرد ہلاک، میجر اور سپاہی شہید اپوزیشن اتحاد کا دو روزہ آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان عمران خان کی رہائی کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے، بیرسٹر سیف جس دن نمبرز پورے ہو گئے، خیبرپختونخوا میں تحریک عدم اعتماد لائیں گے، گورنرفیصل کریم کنڈی بانی پی ٹی آئی کو جیل میں تمام سہولیات مل رہی ہیں، عظمی بخاری ادارے سرحدوں کی حفاظت کریں ، صوبے میں کسی آپریشن کی اجازت نہیں دینگے،گنڈا پورCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: تشکیل دینے نے توہین مذہب کے
پڑھیں:
بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا اور انتہائی اہم صوبہ ہے، جس کے عوام نے قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ملک کی ترقی اور استحکام میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور عوام کی فلاح کو قومی ترجیح سمجھتی ہے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے ماضی میں بھی اہم فیصلے کیے گئے، جنہیں آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 1947 میں بلوچستان کی مختلف ریاستوں نے منظم انداز میں پاکستان میں شمولیت اختیار کی، جبکہ 1948 میں بلوچ اور پشتون قبائلی و سیاسی قیادت نے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی مخلص قیادت نے ذاتی مفادات پر قومی مفاد کو ترجیح دی، جس کے نتیجے میں صوبہ ملک کی تعمیر و ترقی کے سفر میں شریک ہوا۔
وزیراعظم نے کہا کہ اگرچہ آبادی کے لحاظ سے بلوچستان ملک کا سب سے چھوٹا صوبہ ہے، تاہم جغرافیائی اعتبار سے یہ سب سے بڑا صوبہ ہے، جہاں شہر، قصبے اور دیہات ایک دوسرے سے طویل فاصلے پر واقع ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے نسبتاً زیادہ وسائل درکار ہوتے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ 2010 کے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں بلوچستان کے مالی حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے حصے میں نمایاں اضافہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ دیگر صوبوں، خصوصاً پنجاب نے رضاکارانہ طور پر بلوچستان کے حق میں فیصلہ کیا، جبکہ پنجاب نے سالانہ 11 ارب روپے اضافی حصہ دینے کی ذمہ داری قبول کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ کسی قسم کا احسان یا رعایت نہیں تھی بلکہ ایک خاندان کی طرح بھائی چارے اور قومی یکجہتی کے جذبے کے تحت کیا گیا فیصلہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب 2010 سے اب تک بلوچستان کے لیے تقریباً 150 ارب روپے کا اضافی حصہ فراہم کر چکا ہے، جو وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون اور یکجہتی کی بہترین مثال ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کی پائیدار ترقی، عوام کی خوشحالی اور صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں