سینیٹ اجلاس: قائمہ کمیٹیوں کی کارروائی کیخلاف ہائیکورٹس کے حکم امتناع پر اظہار تشویش
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
سینیٹ کے اجلاس میں لاہور اور اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹیوں کی کارروائی کیخلاف حکم امتناع دینے پر اظہار تشویش کیا گیا۔
سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ عدالتوں نے پارلیمان کی کمیٹیوں کو کام کرنے سے روکا ہو، یہ ایک سنگین معاملہ اور پارلیمان میں مداخلت ہے، اٹارنی جنرل کو بلا کر پوچھا جائے۔
اجلاس کی صدارت کرنے والے سینیٹر شہادت اعوان نے رولنگ دی کہ اٹارنی جنرل کو طلب کر کے اس معاملے پر پوچھا جائے گا۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ چیئرمین اٹارنی جنرل کو اپنے چیمبر میں بلا کر معلوم کریں۔
پی ٹی آئی کے سینیٹر سیف اللّٰہ ابڑو نے کہا کہ وزیر قانون نے قانون بنا بنا کر عدلیہ کی بتیسی نکال دی ہے۔
جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ عدالتوں نے سینیٹ کمیٹیوں کی کارروائی روک کر اپنی حد سے تجاوز کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن
الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔
اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔
خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔
خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔
الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔