اسلام آباد:

سینیٹ اجلاس میں  ارکان نے کہا کہ عدالتوں سے قائمہ کمیٹی کی سماعتوں کے خلاف حکم امتناع ایوان بالا کی کارروائی میں مداخلت کے مترادف ہے۔

پینل آف چیئرمین عرفان صدیقی کی صدارت میں سینیٹ کا اجلاس ہوا، جس میں اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ فیڈرل گورنمنٹ ایمپلائز ہاؤسنگ اتھارٹی (ایف جی ای ایچ اے)  غلطی کرتا آ رہا ہے، ان کے خلاف ایکشن لینا چاہیے۔ اگر بینک اسٹیٹمنٹ نکالیں تو بہت سارے معاملات میں بڑے بڑے وزرا بھی شامل ہیں۔

وفاقی  وزیر ہاؤسنگ اینڈ ورکس ریاض حسین پیرزادہ نے جواب دیا کہ اتنے سال سے ایف جی ای ایچ اے کے پروجیکٹس تاخیر کا شکار ہیں۔ پریذائیڈنگ افسر شہادت اعوان نے معاملہ متعلقہ قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیا ہے۔

اس موقع پر سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کی سماعتوں کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹس سے اسٹے آرڈرز آرہے ہیں۔ یہ سینیٹ کی کارروائی میں مداخلت کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایوان نے کبھی عدالتوں کی کارروائیوں میں مداخلت نہیں کی حالانکہ قانون منع نہیں کرتا۔ اٹارنی جنرل کو بلایا جائے اور انہیں ابھی ہدایت کی جائے۔ ایسے معاملات میں اسٹے دیا جارہا ہے جن کے حوالے سے کوئی کیس زیرالتوا نہیں ہے۔

وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا کہ معاملے پر اٹارنی جنرل کو بلانا چاہیے۔ معاملہ وزیر قانون کے سامنے رکھیں گے۔

سینیٹر ضمیر گھمرو نے کہا کہ قانون کے مطابق عدالت پارلیمنٹ کی کارروائی میں کوئی مداخلت نہیں کرسکتی۔ یہ اختیارات کی تقسیم کے خلاف ہے۔

سینیٹر سیف اللہ ابڑو نے کہا کہ اٹارنی جنرل کو آج ہی بلائیں اور ان سے جواب لیں۔ اٹارنی جنرل حکومتی سینیٹرز کو جواب دیں۔ وفاقی وزیر قانون کو بھی بلائیں اور ان سے پوچھیں یہ کیا ہورہا ہے۔

سینیٹر کامران مرتضیٰ نے اس موقع پر کہا کہ اس معاملے پر ایوان کی جانب سے اظہار ناپسندیدگی کیا جانا چاہیے۔ اٹارنی جنرل کو بلاکر اظہار ناپسندیدگی ہونا چاہیے۔  بلوچستان میں اب وکیل بھی اٹھائے جانے لگے ہیں۔ وکلا ہوں یا پارلیمنٹیرینز ان کو اٹھایا نہیں جاناچاہیے۔ اگر ان کیخلاف کوئی مقدمہ ہے تو عدالتوں میں پیش کریں۔

حلف برداری

سینیٹ اجلاس میں  نو منتخب رکن روبینہ ناز نے حلف اٹھایا، جن سے عرفان صدیقی نے حلف لیا۔ روبینہ ناز خیبر پختونخوا سے ایوان بالا کی رکن منتخب ہوئی ہیں۔

اسی طرح سینیٹر حافظ عبدالکریم سے پریزائیڈنگ افسر شہادت اعوان نے حلف لیا۔ نومنتخب سینیٹر کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے۔

یاد رہے کہ 11 میں سے 10 نو منتخب اراکین نے ایوان بالا کی رکنیت کا حلف اٹھا لیا ہے۔

وقفہ سوالات

سینیٹ اجلاس  میں وقفہ سوالات  کے دوران سید مسرور احسن نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے 2022 میں حکم جاری کیا تھا، اس کے باوجود جی 14/1 سیکٹر کے الاٹیوں کو 8 ماہ میں پلاٹوں کا قبضہ نہیں دیا گیا۔ 3 برس گزر گئے اور پلاٹوں کا قبضہ نہیں ملا۔

وفاقی  وزیر ہاؤسنگ اینڈ ورکس ریاض پیرزادہ نے کہا کہ ہمارا سسٹم ہی ایسا ہے کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں بھی اس کا حساب لیا جاتا ہے جو قبروں میں سو چکا ہوتا ہے۔ عدالت کا فیصلہ ہم تک کچھ عرصہ پہلے آیا۔

ہمایوں مہمند نے کہا کہ ہمارے یہاں نالے سے نالی بنا دیا جاتا ہے،جس سے حادثات رونما ہوتے ہیں۔ ڈی ایچ اے فائیو اور سیدپور میں افسوسناک واقعات اسی لیے ہوئے ہیں۔

ریاض پیرزادہ نے جواب دیا کہ یہ صورت حال سوالیہ نشان ہے۔ہم سیاسی لوگ ہیں۔ ہمارے یہاں کوئی منصوبہ بندی نہیں کی جاتی ہے۔ پسند ناپسند کی بنیاد پر منصوبے تاخیر کا شکار کردیے جاتے ہیں۔ جس منصوبے میں منسٹر یا دیگر کا حصہ نہیں ہوتا تو اسے تاخیر کا شکار کردیا جاتا ہے۔ یہاں کوئی کسی کو پوچھنے والا نہیں ۔ ایک منصوبے میں ہزاروں مکانات تعمیر کردیے اور وہاں پانی دستیاب نہیں ہے۔ ذمہ داروں کو شوکاز نوٹس بھی جاری نہیں کیے گئے۔ پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے حوالے سے جلد پیش رفت کی جائے گی ۔

اسرائیلی قرارداد کی مذمت

دوران اجلاس سینیٹر پلوشہ خان اور سینیٹر قراۃ العین مری کی جانب سے اسرائیلی پارلیمنٹ میں مغربی کنارے پر قبضے کی قرارداد کی مذمت کی گئی۔ اسرائیلی پارلیمنٹ کی قرارداد کیخلاف قرارداد ایوان میں پیش کی گئی، جس میں کہا گیا کہ پاکستان کے عوام اور پاکستان کا بچہ بچہ اسرائیل کے مذموم عزائم کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ ایوان فلسطین کے لوگوں کی مکمل طور پر حمایت کرتا ہے۔ بعد ازاں سینیٹ نے یہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔

ٹیرف ریفارم پالیسی پر اظہار خیال

دوران سماعت سینیٹر ذیشان خانزادہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ٹیرف ریفارم پالیسی کے نام سے پلان بنایا ہے۔ پالیسی کے تحت جو فیصلہ ہوئے اس میں کسٹمز ڈیوٹی کا خاتمہ نہیں کیا گیا۔ اگر پلان پر عملدرآمد نہیں ہورہا تو پھر پلان حکومت لاتی ہی کیوں ہے؟۔ اس سے جو ایکسپورٹ میں فائدہ ہونا تھا وہ بس اب خواب ہی رہ گیا ہے۔ قانون کی بالادستی پر نہیں بات کرنے دی جاتی،فنانس، کامرس اور ٹریڈ پر تو بات کرسکتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کی کارروائی میں اٹارنی جنرل کو ایوان بالا کی سینیٹ اجلاس میں مداخلت اظہار خیال نے کہا کہ نہیں کی

پڑھیں:

’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی

پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔

طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘

طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔

سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔

دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔
 

متعلقہ مضامین

  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • وزیراعظم کا  آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر تک پہنچنے پر اطمینان کا اظہار
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کاروزانہ تعین ; سینٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی