صارفین کے لیے خوشخبری، اسٹیٹ بینک نے بینک اکاؤنٹ کھلوانے کے عمل میں اہم تبدیلیاں کردیں
اشاعت کی تاریخ: 26th, July 2025 GMT
کراچی(ویب ڈیسک) اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) نے بینک اکاؤنٹ کھلوانے کے لیے نیا جامع فریم ورک جاری کرتے ہوئے تمام بینکوں اور ریگولیٹڈ اداروں (REs) کو ہدایت دی ہے کہ وہ کاروباری صارفین، خواہ وہ آن لائن ہوں یا اسٹور میں، کو ڈیجیٹل پیمنٹ کی سہولیات فراہم کریں۔
بینک اکاؤنٹ کھلوانے کے عمل میں اہم تبدیلیاں
بینک اکاؤنٹ کھلوانے کا عمل تمام بینکوں میں یکساں اور آسان بنایا گیا ہے۔
دستاویزی تقاضے کم کر دیے گئے ہیں۔
بینکوں کو عام عوام کے لیے 2 دن کے اندر اکاؤنٹ کھولنے کی پابندی ہوگی۔
صارفین اب اپنے اکاؤنٹ کی درخواست کا اسٹیٹس آن لائن ٹریک کر سکیں گے۔
تمام اقسام کے بینک اکاؤنٹس اب ڈیجیٹل طریقے سے کھلوائے جا سکتے ہیں۔
اسٹیٹ بینک کے نئے فریم ورک کا مقصد اکاؤنٹ کھلوانے کے عمل کو سادہ، معیاری اور صارف دوست بنانا ہے۔ اب صارفین کو کم کاغذی کارروائی کے ساتھ، مختلف بینکوں میں یکساں طریقہ کار کے تحت، آسانی سے اکاؤنٹ کھلوانے کی سہولت دستیاب ہوگی۔
بینکوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ عام عوام کے لیے اکاؤنٹ کھولنے کا عمل 2 دن سے زائد نہ ہونے دیں، اور ہر صارف کو اپنی درخواست کی پیش رفت معلوم کرنے کی سہولت فراہم کریں تاکہ شفافیت اور سہولت کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ اقدامات مالی شمولیت کے فروغ اور صارفین کی آسانی کے لیے اسٹیٹ بینک کی جاری کوششوں کا حصہ ہیں۔ اس سے قبل بھی SBP نے برانچ لیس بینکنگ، آسان اکاؤنٹس، ڈیجیٹل آن بورڈنگ اور خصوصی اکاؤنٹ کیٹیگریز (فری لانسرز، ترسیلات زر کے وصول کنندگان، اور بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے) متعارف کرائی تھیں۔
تاجر برادری کے لیے سہولت
کاروباری طبقے، خصوصاً چھوٹے تاجروں کو ڈیجیٹل ادائیگی قبول کرنے کے لیے، SBP نے ہدایت دی ہے کہ ہر تاجر (نئے یا موجودہ) کو کم از کم ایک ڈیجیٹل پیمنٹ ایکسیپٹنس سلوشن فراہم کیا جائے، جیسے کہ راست کیو آر کوڈ، پوائنٹ آف سیل (POS) مشین، ای کامرس یا راست چیک آؤٹ سہولت۔
چھوٹے تاجروں کی آسان آن بورڈنگ اور کم لاگت ڈیجیٹل سہولتوں کی فراہمی کے لیے، SBP نے REs کو ہدایت دی ہے کہ وہ تاجروں کو ’مائیکرو‘، ’سمال‘ اور ’رجسٹرڈ‘ کیٹیگریز میں تقسیم کریں۔
یہ اقدامات نہ صرف بینکاری نظام سے باہر رہنے والے افراد اور کاروباروں کو مرکزی دھارے میں لانے میں مدد دیں گے، بلکہ نقدی پر مبنی لین دین کو بھی ڈیجیٹل بنانے کی طرف ایک اہم قدم ہوں گے۔ اس نئے فریم ورک میں بین الاقوامی معیارات سے ہم آہنگ ریگولیٹری تحفظات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اسٹیٹ بینک ہدایت دی کے لیے
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔