اسلام آباد: گدھے کے گوشت کی فروخت، غیر ملکی ملزم گرفتار، تحقیقات جاری
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
اسلام آباد کے علاقے ترنول میں گدھے کے گوشت کی فراہمی کا انکشاف ہوا ہے، جس پر اسلام آباد فوڈ اتھارٹی نے فوری کارروائی کرتے ہوئے فارم ہاؤس پر چھاپہ مارا اور ایک غیر ملکی شہری کو گرفتار کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستانی گدھے چائنا بھیجے جائیں گے، مگر کیوں اور کیسے؟
میڈیا رپورٹ کے مطابق موقع پر موجود غیر ملکی کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، جبکہ مزید مقامی افراد کی تلاش جاری ہے۔
چھاپے کے دوران فارم ہاؤس سے تقریباً 60 زندہ گدھے اور 25 من تیار گوشت برآمد کیا گیا جسے موقع پر ہی تلف کر دیا گیا۔
ترجمان اسلام آباد فوڈ اتھارٹی کے مطابق ترنول میں 50 سے زائد گدھوں کی موجودگی اور بڑی مقدار میں گوشت کی موجودگی کی اطلاعات پر کارروائی عمل میں لائی گئی۔
یہ بھی پڑھیں:اسلام آباد میں گدھے کا گوشت فروخت ہونے کا انکشاف، 25 من گوشت، 60 زندہ گدھے برآمد
ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ اتھارٹی ڈاکٹر طاہرہ صدیق نے بتایا کہ ابتدائی شواہد کے مطابق گوشت ممکنہ طور پر بیرون ملک سپلائی کیا جا رہا تھا۔ سپلائی چین اور نیٹ ورک میں ملوث دیگر افراد کی تلاش کے لیے تفتیش جاری ہے۔
پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے معاملے کی گہرائی سے چھان بین کر رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گدھا گدھے کا گوشت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: گدھا گدھے کا گوشت اسلام آباد
پڑھیں:
حساس معلومات لیک ہونے کا معاملہ، جے ڈی وینس کے قریبی سکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات
واشنگٹن: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی سکیورٹی ٹیم سے وابستہ ایک خفیہ سروس اہلکار کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ اہلکار پر الزام ہے کہ اس نے نائب صدر کے سفری انتظامات سے متعلق حساس معلومات میڈیا تک پہنچائیں۔
امریکی خفیہ سروس کے ترجمان انتھونی گگلیلمی نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ نائب صدر کے حفاظتی یونٹ کے ایک رکن کے خلاف انتظامی تحقیقات جاری ہیں، جبکہ ممکنہ طور پر فوجداری تحقیقات بھی کی جا سکتی ہیں۔
ترجمان کے مطابق اہلکار پر آپریشنل اور معلوماتی سکیورٹی سے متعلق ضوابط کی خلاف ورزی کے الزامات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ایسی سرگرمی کو برداشت نہیں کیا جائے گا جو کسی اعلیٰ سرکاری شخصیت کی سلامتی کو خطرے میں ڈال سکتی ہو۔
یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب ایک امریکی نشریاتی ادارے نے رپورٹ شائع کی کہ نائب صدر جے ڈی وینس اپنی سکیورٹی ٹیم سے بعض ذاتی نوعیت کے سفری انتظامات کی درخواست کرتے رہے ہیں، جس پر بعض اہلکار ناراضی کا اظہار کر رہے تھے۔
رپورٹ کے مطابق ان درخواستوں میں ایک واقعہ یہ بھی شامل تھا جس میں جے ڈی وینس مبینہ طور پر اپنے بیٹے کو گالف کی تربیت کے لیے ایک محفوظ گالف کورس تک فوجی ہیلی کاپٹر کے ذریعے لے جانا چاہتے تھے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اس مقصد کے لیے ’میرین ٹو’ نامی ہیلی کاپٹر استعمال کرنے کی تجویز زیر غور تھی۔ میرین ٹو وہ سرکاری ہیلی کاپٹر ہے جو امریکی نائب صدر کے سفر کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
تاہم بعد ازاں خراب موسم اور گرج چمک کے باعث یہ پرواز منسوخ کر دی گئی اور منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔
تاحال جے ڈی وینس کے دفتر کی جانب سے اس رپورٹ پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ تحقیقات مکمل ہونے تک خفیہ سروس نے مزید تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ نہ صرف سرکاری وسائل کے استعمال بلکہ حساس سکیورٹی معلومات کے افشا سے متعلق بھی اہم سوالات اٹھا رہا ہے۔