اسلام آباد:

متحدہ عرب امارات میں پاکستانی سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا چھوٹ کی سہولت فعال کردی گئی۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ابوظہبی میں 24 جون 2025 کو متحدہ عرب امارات کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زاید النہیان کے ساتھ ملاقات میں دو طرفہ سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ ہولڈر کو ویزا کی چھوٹ پر اتفاق ہوا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہم دونوں نے ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے تاکہ ان اقدامات کو فعال کیا جائے اور دستخط شدہ یاد داشت کو اس روز کے 30 دن بعد مؤثر ہو جائے گا۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے حکام نے پاکستانی سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ رکھنے والوں کو متحدہ عرب امارات میں داخل ہونے کے لیے ویزے کی چھوٹ فعال کردی ہے، جس کا اطلاق 25 جولائی 2025 سے متحدہ عرب امارات کے تمام پاسپورٹس پر ہوگیا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ متحدہ عرب امارات کے شہریوں کے لیے بھی پاکستان کے تمام ہوائی اڈوں پر ویزا چھوٹ کا اطلاق ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سفارتی اور سرکاری پاسپورٹ متحدہ عرب امارات کے نے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا

تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔

غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔

سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔

ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔

ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔

تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستانیوں کیلئے سری لنکا نے ویزا فیس ختم کر دی
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • گوجرانوالہ: ایجنٹ مافیا کے خلاف ایف آئی اے کا کریک ڈاؤن، 15 گرفتار
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • شہباز شریف سمیت حکومتی شخصیات کو 21 تحائف ملے، توشہ خانہ کا ریکارڈ جاری