اسلام آباد:

الیکٹرک گاڑیوں کے انفرا اسٹرکچر کی تعمیر کے حوالے سے بڑی پیش رفت ہوئی ہے اور 3 ہزار 800 سرمایہ کاروں اور کمپنیوں نے الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز لگانے میں دلچسپی ظاہر کردی ہے۔

ایم ڈی نیکا ڈاکٹرمعظم نے بتایا کہ 30 سے 35 ورکنگ چارجنگ اسٹیشنز نے رجسٹریشن کے لیے رجوع کیا ہے، اس کے علاوہ بین الاقوامی اور مقامی کمپیوں نے الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز لگانے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قومی توانائی بچت اور تحفظ اتھارٹی نے 71 الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز کو لائسنس جاری کردیے ہین۔

ڈاکٹر سردار معظم نے کہا کہ 128 ای وی چارجنگ اسٹیشنز کی درخواستیں رجسٹریشن کے مراحل میں ہیں، ای وی چارجنگ اسٹیشنز اور بیٹری سوائپنگ انفرا اسٹرکچر لگانا چاہتی ہیں، مقامی اور بین الاقوامی کمپنیوں کے ساتھ معلومات کا تبادلہ جاری ہے، متعدد کمپنیاں چارجنگ اسٹیشنز کے حوالے سے ڈاکومنٹس پورے کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز کا ٹیرف کم کیا گیا، چارجنگ اسٹیشنز کا ٹیرف کم کرنے کی وجہ سے سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھی ہے۔

ایم ڈی نیکا نے کہا کہ ڈاکومنٹس مکمل ہونے کے 15 دن کے اندر چارجنگ اسٹیشنز کا لائسنس جاری کر دیا جاتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز نے کہا کہ

پڑھیں:

خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق

صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والی بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 5 روز کے دوران 22 شہری جاں بحق جبکہ 23 زخمی ہوگئے۔ صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطاق 19 جولائی سے اب تک خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں بارشوں اور فلش فلڈز سے مجموعی طور پر 9 مرد، 10 بچے اور تین خواتین جاں بحق ہوئیں۔ اعلامیے کے مطابق زخمیں میں 11 مرد، 5 خواتین 7 بچے شامل ہیں جبکہ تیز بارشوں اور فلش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 37 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں 29 گھروں کو جزوی جبکہ 8 گھر مکمل منہدم ہوگئے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان , بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال لوئر، دیر لوئر اور اپر، ایبٹ آباد، مانسہرہ،ہری پور، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔

اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ پی ڈی ایم اے، ریسکیو 1122، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ اداراے آپس میں رابطے میں اور امدادی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ متاثرہ اضلاع کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ متاثرین میں جلد امدادی سامان تقسیم کردے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو امدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرین کو فوری معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ صوبہ کے تمام دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اور بہاو معمول کے مطابق ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق تیز بارشوں کا یہ سلسلہ آج تک وقفے وقفے سے جاری رہنے کا امکان ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام سے اپیل کی کہ وہ غیر ضروری  سفر سے گریز کریں اور حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں جبکہ حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس/ اور ایڈوائزری پر عمل کریں۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق ایمرجنسی آپریشن سینٹر مکمل طور پر فعال ہے، عوام کسی بھی نا خوشگوار واقعے کی اطلاع ، موسمی صورتحال سے آگائی اور معلومات کے لیے فری ہیلپ لائن 1700 پر رابطہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ
  • خیبر پختونخوا میں بارشوں اور فلش فلڈز کے حادثات میں 22 افراد جاں بحق
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • حضرت داتا گنج بخش ؒ کا سالانہ عرس; انتظامات کے حوالے سے خصوصی اجلاس
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری