— فائل فوٹو

وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) کے موجودہ چیئرمین ڈاکٹر مختار احمد کی مدتِ ملازمت منگل، 29 جولائی 2025 کو مکمل ہو رہی ہے جس کے ساتھ ان کی متنازع ایک سالہ توسیع بھی اختتام کو پہنچے گی۔ 

ڈاکٹر مختار احمد اس سے قبل ایچ ای سی کے چیئرمین کے طور پر دو مکمل مدتیں پوری کر چکے تھے جس کے بعد گزشتہ سال انہیں ایک سال کی غیر معمولی توسیع دی گئی۔

ایچ ای سی آرڈیننس کی شق 8(3) کے مطابق، وزیراعظم پاکستان ایچ ای سی کے کنٹرولنگ اتھارٹی ہیں اس لیے ان کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ موجودہ کمیشن ممبران میں سے کسی ایک کو زیادہ سے زیادہ تین ماہ کے لیے عبوری چیئرمین مقرر کریں۔

ایچ ای سی آرڈیننس کی شق 8(3) میں واضح طور پر درج ہے ’اگر چیئرمین کے عہدے پر خلا پیدا ہو جائے تو کنٹرولنگ اتھارٹی کمیشن کے کسی رکن کو زیادہ سے زیادہ تین ماہ کے لیے عبوری چیئرمین نامزد کر سکتی ہے اور اس دوران کنٹرولنگ اتھارٹی کو ایچ ای سی کے لیے مستقل چیئرمین کا انتخاب  بھی کرنا ہوگا‘۔

چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد کے مستقبل کا فیصلہ 27 جولائی کو ہوگا

وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین ڈاکٹر مختار احمد کے مستقبل کا فیصلہ 27 جولائی کو ہوگا۔

ذرائع کے مطابق وفاقی وزارت تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی جانب سے ایک سمری تیار کی جا رہی ہے جس میں کمیشن کے ان ممبران کے نام شامل ہوں گے جو عبوری چیئرمین کی بننے کے اہل ہیں، یہ سمری وزیرِاعظم شہباز شریف کو بھجوائی جائے گی تاکہ عبوری چیئرمین کا تقرر عمل میں لایا جا سکے۔

ممکنہ امیدواروں میں ڈاکٹر احسان اللّٰہ کاکڑ (بلوچستان)، ڈاکٹر ثمرین حسین (سندھ)، ڈاکٹر سروش لودھی (سندھ) اور ڈاکٹر سمیرا رحمٰن (پنجاب) کے علاوہ وفاقی سیکریٹری تعلیم (اسلام آباد) کے نام شامل ہیں۔

وفاقی وزیر تعلیم اور سرچ کمیٹی کے کنوینئر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ موجودہ چیئرمین کی مزید کسی توسیع کا کوئی امکان نہیں ہے اور نئے چیئرمین کی تعیناتی کا عمل شروع کرنے کے لیے سرچ کمیٹی کے اجلاس بلائے جاچکے ہیں۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ماضی میں بھی اس عبوری شق کے تحت انجینئر امتیاز گیلانی اور انجینئر احمد فاروق بزی کو عبوری چیئرمین کے طور پر مقرر کیا گیا تھا۔

ذرائع نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ کچھ غیر کمیشن ممبران وائس چانسلرز، بشمول نجی جامعات سے تعلق رکھنے والے ایک فرد نے بھی قائم مقام چیئرمین کا چارج حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن ایچ ای سی ایکٹ کی واضح قانونی شق کے باعث یہ ممکن نہ ہو سکا۔

ماہرین تعلیم اور پالیسی ساز حلقے اب حکومت کی جانب دیکھ رہے ہیں کہ وہ اس عبوری مرحلے کو مؤثر انداز میں مکمل کرے اور ایک ایسا مستقل چیئرمین مقرر کرے جو پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی نظام کو عالمی معیار کے مطابق بہتر بنانے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: ڈاکٹر مختار احمد عبوری چیئرمین ایچ ای سی کے لیے

پڑھیں:

بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی

راولپنڈی (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وزیراعلیٰ خیبر پی کے  محمد سہیل آفریدی نے اپنی اور صوبائی مشیر خزانہ کی بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف سے ملاقات کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بانی سے بجٹ پر رہنمائی حاصل کرنا ضروری‘ اس کے لیے اسلام آباد ہائیکورٹ سے بھی رجوع کیا جائے گا۔ علیمہ خان کے ساتھ اڈیالہ جیل کے باہر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمیں مزید دیوار سے لگانے کی کوشش اور ملاقات کا حق نہ دیا گیا تو 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دیں گے اور وفاقی بجٹ بھی پاس نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پی کے میں حکومت عمران خان کی ہے، اسے ان کے سوا کوئی ختم نہیں کر سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کے پاس نہ موثر داخلہ پالیسی ہے اور نہ ہی خارجہ پالیسی۔ آنے والا وفاقی بجٹ عوام پر ایک معاشی ایٹم بم ہوگا۔ 

متعلقہ مضامین

  • کوہستان آپریشن سکینڈل: نیب نے 6 ارب سے زائد اثاثے خیبر پی کے حکومت کے حوالے کر دیئے
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر