دہلی(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔28 جولائی ۔2025 )بھارت کی سب سے بڑی حزبِ اختلاف جماعت کانگریس کے رہنما اور سابق وزیرداخلہ پی چدمبرم نے کہا ہے کہ حکومت نے اب تک اس بات کے کوئی ثبوت پیش نہیں کیے کہ پہلگام پر حملہ کرنے والے دہشت گرد کہاں سے آئے تھے بھارتی جریدے سے انٹرویو کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کے خیال میں انڈین حکومت کیا چھپانے کی کوشش کر رہی ہے؟جس پر چدمبرم کا کہنا تھا کہ یہ ان کا قیاس ہے لیکن ان کے خیال میں حکومت جس بات کو چھپانے کی کوشش کر رہی ہے اور جس کی جانب انڈین چیف آف ڈینفنس نے بھی اشارہ کیا تھا وہ یہ ہے کہ انڈیا سے سٹریٹجک غلطیاں ہوئیں اور بعد ازاں حکمت عملی تبدیل کی گئی وہ کیا سٹریٹیجک غلطیاں تھیں جو ہم نے کی اور نئی حکمت عملی کیا اختیار کی گئی؟.

انہوں نے کہاکہ حکومت این آئی اے (نیشنل انویسٹیگیشن ایجنسی) کی رپورٹ کو سامنے نہیں لا رہی کہ ایجنسی نے اس دوران کیا تفتیش کی کیا ایجنسی دہشت گردوں کی شناخت کرنے میں کامیاب رہی؟ اور وہ کہاں سے آئے تھے؟ ان کا کہنا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ یہ دہشت گرد مقامی ہوں آپ کیوں فرض کر کے بیٹھے ہیں کہ وہ پاکستان سے آئے تھے؟. کانگریس رہنما کا کہنا تھا کہ اس بات کا کوئی ثبوت نہیں کہ حملہ آور پاکستان سے آئے تھے ان کا کہنا تھا کہ انڈین حکومت جنگ میں ہونے والے نقصانات کو بھی چھپا رہی ہے میں نے ایک کالم میں بھی لکھا ہے کہ جنگ میں دونوں طرف سے نقصان ہوتا ہے مجھے لگتا ہے کہ انڈیا کا بھی نقصان ضرور ہوا ہو گا حکومت کھل کر بتائے.

چدمبرم کے بیان پر بی جے پی کے رہنما انوراگ ٹھاکر کا کہنا تھا کہ جب بھی پاکستان اور دہشت گردی کی بات آتی ہے تو پاکستان بھی اپنی اتنی وکالت نہیں کرتا جتنی وہ کانگریس کرتی ہے جس پر راہول گاندھی قابض ہے . دریں اثنا شیو سینا کی رکن پارلیمنٹ پرینکا چترویدی کا کہنا تھا کہ ہمیں کسی ثبوت کی ضرورت نہیں ہے ہم نے نقصان اٹھایا ہے انہوں نے الزام لگایا کہ ہم جانتے ہیں کہ یہ پاکستان کی مذموم حرکتیں ہیں، جو نہ تو خود ترقی کر سکا اور نہ ہی کسی دوسرے ملک کو ایسا کرنے دے رہا ہے.

دوسری جانب بھارتی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اجلاس حزبِ اختلاف کی ہنگامہ آرائی کے بعد دوسری مرتبہ ملتوی کر دیے گئے پیر کے روز آپریشن سندور پر بحث کے لیے بلائے گئے انڈین پارلیمان کے ایوانِ زیریں لوک سبھا کا اجلاس ملتوی کر دیا گیا یاد رہے کہ انڈیا کے وزیردفاع راج ناتھ سنگھ نے آپریشن سندور کے حوالے سے آج لوک سبھا سے خطاب کرنا ہے.

ایوانِ زیریں کے اجلاس میں سوالات کے وقفے کے دوران وزیر سیاحت گجیندر سنگھ شکھاوت سوالوں کے جواب دے رہے تھے کہ حزبِ اختلاف کے ارکان کی جانب سے ہنگامہ آرائی شروع ہو گئی سپیکر اوم برلا نے تمام اراکین سے امن برقرار رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب نے کہا کہ آپریشن سندور پر بحث ہونی چاہیے، اب آپ ایوان میں خلل ڈال رہے ہیں اور کارروائی چلنے نہیں دے رہے اس کے بعد اوم برلا نے لوک سبھا کی کارروائی ملتوی کر دی.

دوسری جانب، انڈیا کے ایوانِ بالا راج سبھا کی کارروائی بھی 11 بجے شروع ہوئی لیکن کچھ ہی دیر بعد اس کو بھی ملتوی کرنا پڑا بھارتی نشریاتی ادارے کے مطابق دن 12 بجے دونوں ایوانوں کے اجلاس شروع ہوتے ہی ایک بار پھر ملتوی کر دیے گئے اب راج سبھا کا اجلاس مقامی وقت کے مطابق 2 بجے ہوگا جبکہ لوک سبھا کی کارروائی 1 بجے شروع ہونی تھی. 

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کا کہنا تھا کہ سے آئے تھے ملتوی کر لوک سبھا

پڑھیں:

وزارتِ خارجہ کی اپوسٹل سروسز کے ٹھیکوں پر سوالات، آڈٹ میں قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی

اسلام آباد (رضوان عباسی ) وزارتِ خارجہ کی قونصلر سروسز کے تحت اپوسٹل سروسز کے لیے کوریئر کمپنیوں کے انتخاب کے عمل پر آڈٹ نے کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق خدمات کے حصول میں پبلک پروکیورمنٹ رولز (پیپرا) کے تقاضوں پر مکمل عمل نہیں کیا گیا اور اوپن ٹینڈرنگ کے شواہد بھی ریکارڈ پر موجود نہیں ہیں۔ روزنامہ اوصاف کو حاصل دستاویزات کے مطابق 17 مئی 2024 سے اپوسٹل سروسز کے لیے ٹی سی ایس، لیوپرڈز، جیرینز، ایم اینڈ پی اور ایکسیلنٹ کوریئر سروسز (ECS) سمیت پانچ کوریئر کمپنیوں کو دستاویزات کی وصولی اور ترسیل کی ذمہ داری سونپی گئی۔ تاہم آڈٹ کا کہنا ہے کہ کمپنیوں کے انتخاب کے لیے نہ تو اوپن کمپیٹیٹیو بڈنگ کی گئی اور نہ ہی واضح سلیکشن کرائٹیریا یا کاروباری اہلیت کا مکمل ریکارڈ دستیاب تھا۔آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہی طریقہ کار صرف اسلام آباد ہی نہیں بلکہ کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور گجرات میں قائم فارن آفس لیزن دفاتر (FALOs) میں بھی اختیار کیا گیا۔

رپورٹ میں ای سی ایس یعنی ایکسیلینٹ کورئیر سروسز کے انتخاب پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ آڈٹ کے مطابق ای سی ایس کمپنی کے قومی سطح پر متعلقہ تجربے، کاروباری پروفائل اور اہلیت سے متعلق مطلوبہ ریکارڈ دستیاب نہیں تھا۔ اس کے علاوہ کمپنی کی سیلز ٹیکس رجسٹریشن اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) سے متعلق دستاویزات بھی ریکارڈ پر موجود نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔آڈٹ رپورٹ میں یہ سفارش کی گئی ہے کہ پورے معاملے کی جامع تحقیقات کی جائیں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور آئندہ سرکاری خریداری اور خدمات کے حصول میں پیپرا رولز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔وزارتِ خارجہ کی جانب سے آڈٹ رپورٹ میں اٹھائے گئے نکات پر تاحال باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • وزارتِ خارجہ کی اپوسٹل سروسز کے ٹھیکوں پر سوالات، آڈٹ میں قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان