گوئٹے مالا؛ زلزلے سے تباہ گھروں میں چوری کے الزام میں 5 افراد کو زندہ جلادیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
گوئٹے مالا میں زلزلے کے بعد تباہ حال گھروں میں چوری کی نیت سے داخل ہونے والے مشتعل ہجوم کے ہتھے چڑھ گئے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق گوئٹے مالا کا علاقہ سانتا ماریا دی جیسس زلزلے میں سب سے زیادہ متاثر ہوا تھا۔
پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ اس علاقے میں درجنوں خاندان اپنے گھروں کو چھوڑ کر پناہ گاہوں یا اپنے دیگر رشتہ داروں کے گھر منتقل ہوگئے تھے۔
ترجمان پولیس کا مزید کہنا تھا کہ جس کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے کچھ افراد رات کے اندھیرے میں گھروں میں گھس آئے تھے۔
ان میں 5 افراد کو علاقہ مکینوں نے رنگے ہاتھوں پکڑلیا اور ہجوم نے ان افراد کو ڈنڈوں اور پتھروں سے مارا اور بعد میں آگ لگا کر زندہ جلا دیا۔
ترجمان پولیس کا کہنا تھا کہ اگرچہ چوری غیر قانونی عمل ہے لیکن قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا اور ہجوم کا کسی پر بھی تشدد یا قتل خود ایک سنگین جرم ہے۔
وزارت داخلہ کے ترجمان نے بتایا کہ مشتعل ہجوم میں شامل افراد کی شناخت ہوگئی اور جب پولیس انھیں گرفتار کرنے پہنچی تو علاقہ مکینوں نے ایسا کرنے سے روک دیا۔
واضح رہے کہ گوئٹے مالا میں ہجوم کے ہاتھوں قتل کا رجحان نئی بات نہیں۔ 2008 سے 2020 کے درمیان ایسے واقعات میں 361 افراد ہلاک اور 1,396 زخمی ہوچکے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔