سائٹ ایریا میں رینجرز اہلکار کی فائرنگ سے پولیس اہلکار جاں بحق ہو گیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
کراچی (اسٹاف رپورٹر )سائیٹ ایریا میں رینجرز اہلکار کی فائرنگ سے پولیس اہلکار جاں بحق ہو گیا۔
تفصیلات کے مطابق سائٹ اے تھانے کی حدود نورس چورنگی کے قریب فائرنگ کے واقعہ میں ایک شخص جاں بحق ہو گیا۔
پولیس کے مطابق ابتدائی طور پر معلوم ہوا کہ دو ملزمان لوٹ مار کر رہے تھے کہ شہری نے ان پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک جبکہ دوسرا فرار ہو گیاتاہم مزید معلومات کرنے پر معلوم ہوا کہ جاں بحق شخص ڈکیت نہیں بلکہ پولیس اہلکار تھا جس کی شناخت 30 سالہ وسیم اختر ولد نظر حسین کے نام سے ہوئی ۔
ایس ایس پی کیماڑی کیپٹن ( ر) فیضان علی کے مطابق شہید پولیس اہلکار وسیم اختر ولد نظر حسین تھانہ گلشن معمار ہیڈ محرر دفتر ڈسٹرکٹ ویسٹ میں تعینات تھا اور سجن کالونی گلستان جوہر کا رہائشی تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی اطلاع موصول ہوئی کہ رینجرز اہلکار نے فائرنگ کرکے ایک ڈاکو کو ہلاک کیا ہے جبکہ ڈاکو کا ایک ساتھی فرار ہوگیا ہے۔
پولیس تحقیقات کے دوران معلوم ہوا کہ پولیس اہلکار اور رینجرز اہلکار کے مابین دوران لڑائی جھگڑا ہوا اور اسی دوران دونوں جانب سے فائرنگ ہوئی۔
ایس ایس پی کیماڑی کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں پولیس اہلکار وسیم اختر ولد نظر حسین شہید ہوگیا جبکہ رینجرز اہلکار زخمی ہوا۔
جاں بحق پولیس اہلکار کی لاش کو فوری طور پر اسپتال روانہ کیا گیا۔
پولیس کے مطابق رینجرز اہلکار تشویشناک حالت میں اسپتال میں زیر علاج ہے۔
رینجرز اہلکار کی شناخت محمد نعمان کے نام سے ہوئی ہے ۔
پولیس کو جائے وقوعہ سے بیگ ، دو عدد نائن ایم ایم پستول اور چلیدہ خول ملے ہیں جن کے متعلق معلومات حاصل کی جارہی ہیں۔
پولیس نے بتایا کہ پولیس اور رینجرز انویسٹی گیشن کی مشترکہ ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جو واقعہ کی تفتیش کریں گی۔
اس حوالے سے رینجرز کا کوئی موقف سامنے نہیں آیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: رینجرز اہلکار پولیس اہلکار اہلکار کی کے مطابق ہو گیا
پڑھیں:
مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
ولی خان کے علاقے میں نامعلوم افراد نے سیشن جج کی گاڑی پر فائرنگ کردی۔ڈی پی او اللہ بخش بلوچ کے مطابق فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کا گن مین جاں بحق ہوگئے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت 2 افراد شدید زخمی ہیں۔ڈی پی او کا بتانا ہے کہ سیشن جج اور ایڈیشنل سیشن جج کوئٹہ سے سیشن کورٹ مستونگ آرہے تھے، واقعے کے بعد علاقے کی ناکہ بندی کردی گئی ہے۔