راولپنڈی: دوران ڈکیتی مزاحمت پر 9ویں جماعت کا طالبعلم قتل
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
راولپنڈی کے مصروف علاقے اڈیالا روڈ پر ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر فائرنگ سے نویں جماعت کا طالب علم جاں بحق ہو گیا۔ پولیس کے مطابق جاں بحق طالبعلم کی شناخت ابوبکر کے نام سے ہوئی ۔ابتدائی تحقیقات کے مطابق ملزمان نے نوجوان ابوبکر سے موبائل فون چھیننے کی کوشش کی، اور مزاحمت پر فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں ابوبکر موقع پر ہی شدید زخمی ہوگیا، جسے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واردات میں ملوث ملزمان جائے وقوعہ سے ابوبکر کا موبائل فون اور موٹرسائیکل بھی ساتھ لے گئے۔پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لیے اور سی سی ٹی وی فوٹیج اور دیگر ذرائع کی مدد سے ملزمان کی تلاش کا عمل شروع کر دیا گیا ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔