شاولن معبد کے سربراہ شی یونگ شن پر سنگین الزامات، راہب کا درجہ واپس لے لیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
چین کے تاریخی اور دنیا بھر میں مشہور شاولن معبد کے سربراہ شی یونگ شن کے خلاف بدچلنی، مالی بے ضابطگیوں اور جنسی جرائم جیسے سنگین الزامات پر باقاعدہ فوجداری تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق معبد کی انتظامیہ نے اتوار کے روز بتایا کہ شی یونگ شن پر متعدد خواتین سے نامناسب تعلقات، مالی بدعنوانی اور دیگر غیر اخلاقی حرکات کی مختلف ادارے چھان بین کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بدھ راہبوں کو جنسی ویڈیوز سے بلیک میل کرکے کروڑوں بٹورنے والی خاتون گرفتار
شی یونگ شن، جنہوں نے 1981 میں راہب کا درجہ اختیار کیا اور 1999 سے شاولن معبد کے 30 ویں سربراہ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے، ان پر عائد الزامات کے بعد ان کا باضابطہ راہب کا درجہ واپس لے لیا گیا ہے۔
چین کی بدھ مت تنظیم نے پیر کے روز ایک بیان میں کہا کہ شی یونگ شن کے افعال نہایت مذموم ہیں، جنہوں نے بدھ مت برادری کی ساکھ اور راہبوں کے وقار کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: تبتی بدھ بھکشوؤں کے 90 سالہ پیشوا دلائی لامہ اپنے جانشین کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟
یہ پہلا موقع نہیں جب شی یونگ شن الزامات کی زد میں آئے ہوں۔ اس سے قبل 2015 میں بھی ان پر معبد کے مالی وسائل میں خردبرد، قیمتی تحائف وصول کرنے اور خواتین سے نامناسب تعلقات جیسے الزامات کے تحت تحقیقات ہوچکی ہیں۔
چینی عوامی حلقوں میں اس واقعے پر گہری تشویش پائی جاتی ہے، جہاں مذہبی شخصیات سے بلند اخلاقی معیار کی توقع رکھی جاتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news بدھ مت برطرف چین شاولن معبد شی یونگ شن.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: چین شاولن معبد شی یونگ شن شاولن معبد شی یونگ شن معبد کے
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، بحیرۂ احمر سے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا اعلان
برلن: جرمنی نے بحیرۂ احمر میں تعینات اپنے دو جنگی بحری جہاز واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی پیش رفت کے بعد آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں صاف کرنے کے ممکنہ مشن کی فوری ضرورت باقی نہیں رہی۔
جرمن وزارتِ دفاع کے مطابق واپس بلائے جانے والے جہازوں میں ’فلڈا‘ نامی مائن ہنٹر اور ’موزیل‘ نامی سپورٹ شپ شامل ہیں۔ دونوں جہاز جون میں نہرِ سویز کے راستے بحیرۂ احمر پہنچے تھے اور اس وقت جبوتی میں تعینات تھے۔
ان جہازوں کے ساتھ تقریباً 140 اہلکار بھی موجود تھے، جن میں بارودی سرنگیں صاف کرنے والے غوطہ خور، خودکار زیرِ آب نظام کے ماہرین اور سکیورٹی ٹیمیں شامل تھیں۔
جرمن حکام کے مطابق ان بحری جہازوں کو اس خدشے کے پیش نظر تیار رکھا گیا تھا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھاتا ہے تو انہیں فوری کارروائی کے لیے استعمال کیا جا سکے۔
جرمنی کے وزیر دفاع بورس پسٹوریئس پہلے ہی واضح کر چکے تھے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی فوجی مشن کا انحصار سیاسی اور سفارتی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران اور عمان سمیت علاقائی ممالک کی رضامندی پر ہوگا۔
وزارتِ دفاع نے کہا کہ یہ بحری مشن کسی جنگی کارروائی کا حصہ نہیں تھا بلکہ یورپی ممالک کی جانب سے عالمی بحری راستوں پر آزادانہ جہاز رانی کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ تھا۔
اگرچہ یہ دونوں جہاز واپس بلائے جا رہے ہیں، تاہم جرمنی بدستور یورپی یونین کے آپریشن اسپائیڈیز میں شامل رہے گا، جس کا مقصد بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں کو یمن کے حوثی گروپ کے حملوں سے تحفظ فراہم کرنا ہے۔
اس کے علاوہ جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان کے ساحل پر اقوام متحدہ کے امن مشن یونیفل میں اپنی بحری شمولیت بھی 2026 کے اختتام تک برقرار رکھے گا۔
جرمن حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگرچہ فوری خطرات میں کچھ کمی آئی ہے، لیکن مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔ ان کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھتی ہے تو آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں عالمی جہاز رانی ایک مرتبہ پھر متاثر ہو سکتی ہے۔