زائرین پر پابندی افسوسناک اور عوامی جذبات سے متصادم فیصلہ ہے، شبیر ساجدی
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
ایم ڈبلیو ایم کے پی کے رہنماء نے وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیر اعظم میاں شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ زائرینِ اربعین کے لیے زمینی راستوں کو فی الفور بحال کیا جائے اور بلوچستان سمیت تمام روٹس پر سیکورٹی کو مؤثر بنایا جائے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین خیبر پختونخوا کے صوبائی جنرل سیکرٹری شبیر ساجدی نے اربعینِ حسینی کے موقع پر پاکستان سے زمینی راستے کے ذریعے ایران اور عراق جانے والے زائرین پر عائد پابندی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس حکومتی اقدام کو افسوسناک اور عوامی جذبات سے متصادم قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال لاکھوں عاشقانِ امام حسینؑ بااخلاص جذبے اور ایمانی حرارت کے ساتھ اربعین میں شرکت کے لیے کربلا کا رخ کرتے ہیں، اور ان کے لیے زمینی راستہ نہ صرف زیادہ سہولت کا باعث ہوتا ہے بلکہ کم آمدنی والے طبقات کے لیے واحد ممکن راستہ بھی ہے۔ ایسے میں حکومت کا یہ فیصلہ محروم طبقات کے لیے ایک شدید رکاوٹ بن کر سامنے آیا ہے۔
شبیر ساجدی نے کہا کہ اگر بلوچستان کے راستوں پر سیکورٹی کے خدشات ہیں تو یہ ذمہ داری ریاستی اداروں کی ہے کہ وہ امن و امان قائم کریں، نہ کہ راستے بند کر کے ذمہ داری سے پہلوتہی اختیار کریں۔ انہوں نے وزیر داخلہ جناب محسن نقوی اور وزیر اعظم میاں شہباز شریف سے مطالبہ کیا کہ زائرینِ اربعین کے لیے زمینی راستوں کو فی الفور بحال کیا جائے اور بلوچستان سمیت تمام روٹس پر سیکورٹی کو مؤثر بنایا جائے تاکہ زائرین باوقار اور محفوظ طریقے سے اپنی مذہبی رسومات ادا کر سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مسئلے پر ملت جعفریہ میں شدید بےچینی پائی جاتی ہے، اور حکومت کو چاہیے کہ وہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے زائرین کے جذبات کا احترام کرے اور فوری طور پر اس فیصلے پر نظر ثانی کرے
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے لیے
پڑھیں:
مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ وائرل ہورہا تھا کہ پنجاب کے سیاحتی مقام مری میں 31 مئی تک غیر شادی شدہ مردوں (بیچلرز) کے داخلے پر سرکاری پابندی عائد کردی گئی ہے، تاہم فیکٹ چیک کے بعد یہ واضح ہوا ہے کہ یہ دعویٰ گمراہ کن ہے اور مکمل طور پر درست نہیں۔
فیس بک سمیت مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں کہا جا رہا تھا کہ عید سے قبل مری میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے بیچلرز کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صرف فیملیز کو ہی شہر میں جانے کی اجازت ہوگی۔ ان دعوؤں میں یہ تاثر دیا گیا کہ مبینہ پابندی پورے مری شہر پر لاگو ہے۔
حقیقت اس کے برعکس ہے۔ حکام کے مطابق مری میں غیر شادی شدہ مردوں کے داخلے پر کوئی مکمل پابندی عائد نہیں کی گئی۔ صرف مخصوص ہدایت کے تحت مال روڈ پر ایک تبدیلی کی گئی ہے، جہاں اکیلے آنے والے مردوں یا بیچلرز گروپس کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی، جبکہ فیملیز بدستور وہاں جا سکتی ہیں۔
ضلع مری کے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) کامران صغیر کے مطابق 31 مئی تک دفعہ 144 نافذ تھی، جس کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا۔ ان کے مطابق مری شہر میں بیچلرز کے داخلے پر کوئی پابندی نہیں، البتہ مال روڈ پر صرف فیملیز کو جانے کی اجازت دی گئی ہے تاکہ سیاحتی نظم و ضبط بہتر بنایا جا سکے۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ’’مال روڈ کے اوپر اکیلے مردوں کو اجازت نہیں، صرف فیملیز جا سکتی ہیں، پورا مری بند نہیں ہے، بیچلرز کی انٹری پر مکمل پابندی نہیں ہے۔‘‘
ڈپٹی کمشنر مری کے سرکاری فیس بک اکاؤنٹ سے بھی 20 مئی کو جاری نوٹیفکیشن شیئر کیا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ پولیس کی سفارش پر مال روڈ پر صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ سیاحوں کو بہتر سہولت فراہم کی جا سکے۔
یہ دعویٰ کہ مری میں بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد ہے، غلط ثابت ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود ہے، جبکہ مری شہر بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے۔