لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس نے ڈسٹرکٹ جیل پاکپتن سے ملزم علی عباس کی جیل سے دائر درخواست پر سماعت کی۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ملزم علی عباس کو ڈسٹرکٹ جیل پاکپتن سے دوسرے مقدمے میں شامل کیا جا رہا ہے جس کے بعد پولیس مقابلے میں مارے جانے کا خطرہ ہے۔ اسلام ٹائمز۔ لاہور ہائیکورٹ نے ڈکیتی کے ملزم کی پولیس مقابلے میں ہلاکت سے بچانے کی درخواست واپس کر دی۔ لاہور ہائیکورٹ کی چیف جسٹس مس عالیہ نیلم نے ڈسٹرکٹ جیل پاکپتن سے ملزم علی عباس کی جیل سے دائر درخواست پر سماعت کی۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ملزم علی عباس کو ڈسٹرکٹ جیل پاکپتن سے دوسرے مقدمے میں شامل کیا جا رہا ہے جس کے بعد پولیس مقابلے میں مارے جانے کا خطرہ ہے۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس عالیہ نیلم نے استفسار کیا کہ اگر ملزم دوسرے مقدمے میں شناخت ہو جاتا ہے تو عدالت اس کی گرفتاری کیسے روک سکتی ہے۔؟ اتنی سنسنی پھیلانے کی کیا ضرورت تھی جبکہ حقائق واضح نہیں کئے گئے، پولیس مقابلے کی مبینہ صورتحال میں حقیقت کیا ہے۔؟

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے مزید کہا کہ اگر پولیس واقعی ملزم کو کسی فرضی مقابلے میں مارنے کا ارادہ رکھتی ہے تو عدالت کو اس کا بروقت نوٹس لینا چاہیے اور ملزم کی حفاظت کیلئے فوری اقدامات کئے جائیں۔ عدالت نے درخواست واپس کرتے ہوئے ملزم کے وکیل کو ہدایت کی کہ وہ درخواست میں ضروری ترمیم کریں اور دوبارہ پیش کریں تاکہ معاملے کی مزید سماعت کی جا سکے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پولیس مقابلے میں لاہور ہائیکورٹ ملزم علی عباس چیف جسٹس

پڑھیں:

لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔

(جاری ہے)

پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
  • لاہور میں وین ڈرائیور سے بدتمیزی ٹریفک وارڈن کو مہنگی پڑ گئی
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ