غیر قانونی بھرتیوں کا الزام:چیئرمین پی اے آر سی کی عبوری ضمانت میں توسیع
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
غیر قانونی بھرتیوں کا الزام:چیئرمین پی اے آر سی کی عبوری ضمانت میں توسیع WhatsAppFacebookTwitter 0 28 July, 2025 سب نیوز
اسلام آباد(آئی پی ایس) اسپیشل جج سینٹرل اسلام آباد شاہ رخ ارجمند نے چیئرمین پی اے آر سی سمیت 12 ملزمان کی عبوری ضمانت میں 2 ستمبر تک توسیع کر دی۔بھرتیوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کے کیس میں نامزد ملزمان کی جانب سے آج ضمانت کی درخواستوں پر دلائل پیش نہیں کیے جا سکے۔ عدالت نے ہدایت دی کہ اگلی سماعت پر ملزمان کے وکلا دلائل مکمل کریں۔ایف آئی اے کی جانب سے چیئرمین پی اے آر سی سمیت دیگر کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 2 ستمبر تک ملتوی کر دی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرپی ایس بی نے اسپورٹس فیڈریشنز کیلئے نئے قواعد و ضوابط نافذ کردیے پی ایس بی نے اسپورٹس فیڈریشنز کیلئے نئے قواعد و ضوابط نافذ کردیے کولمبیئن صدر نے اسرائیل کو کوئلے کی برآمد پر پابندی لگادی، تمام شپمنٹس روک دیں پی ٹی آئی کارکنوں کو اسلام آباد کی عدالت سے بڑاریلیف مل گیا الیکشن کمیشن کو عمرایوب کے خلاف کارروائی کرنے سے روک دیا گیا کن پاکستانیوں کےلئے یواےای کے ویزا چھوٹ کی سہولت بحال ہوگئی؟ مون سون کا پانچواں اسپیل آج پاکستان میں داخل ہوگا، کن علاقوں میں بارش متوقع؟Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: چیئرمین پی اے ا ر سی
پڑھیں:
سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث
شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔