الیکشن کمیشن کو عمرایوب کے خلاف کارروائی کرنے سے روک دیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
الیکشن کمیشن کو عمرایوب کے خلاف کارروائی کرنے سے روک دیا گیا WhatsAppFacebookTwitter 0 28 July, 2025 سب نیوز
پشاورہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی عمرایوب کے خلاف کارروائی کرنے سے روک دیا۔
تفصیلات کے مطابق پشاور ہائیکورٹ میں عمرایوب کی الیکشن کمیشن کے نوٹس کے خلاف درخواست پر جسٹس اعجاز انور اور جسٹس خورشید اقبال نے سماعت کی، عدالت نے الیکشن کمیشن کو عمر ایوب کے خلاف کارروائی کرنے سے روک دیا۔
وکیل درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن نے عمر ایوب کو اثاثے ظاہر نہ کرنے کے خلاف نوٹس بھیجا ہے، اثاثوں سے متلعق 120 دن کے اندر جواب دینا لازمی ہوتا ہے، ہم نے مقررہ وقت میں ہی الیکشن کمیشن کو جواب جمع کیا ہے، الیکشن کمیشن مقرررہ وقت میں جواب جمع نہ کرنے کی صورت میں نوٹس جاری کریں گا۔
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس نوعیت کا کیس ایبٹ آباد میں بھی زیر سماعت ہے، جس پر عدالت نے کہا کہ اس کیس کو وہاں بھیج دے یا پھر اس کیس کو یہاں منگوا لے۔ بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت ملتوی کردی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرچین کمبوڈیا-تھائی لینڈ تنازعہ میں جنگ بندی کیلئے پرُ امید ہے، وزارت خارجہ کن پاکستانیوں کےلئے یواےای کے ویزا چھوٹ کی سہولت بحال ہوگئی؟ مون سون کا پانچواں اسپیل آج پاکستان میں داخل ہوگا، کن علاقوں میں بارش متوقع؟ ہیپاٹائٹس سی: 2030 تک ایک کروڑ 65 لاکھ افراد کی اسکریننگ ہوگی، وزیر اعظم پاکستان نے فلسطینی ریاست کے قیام کی عالمی کوشش میں شمولیت اختیار کر لی مجلس وحدت مسلمین نے زیارات کیلئے زمینی راستے سے جانے پر حکومتی پابندی کو مسترد کردیا،خاتمے کا مطالبہ پیپلزپارٹی کا این اے 129لاہور کی خالی ہونے والی نشست پر ضمنی الیکشن لڑنے کا اعلانCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: الیکشن کمیشن کو
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔