اسحاق ڈار اور مصری وزیر خارجہ کی ملاقات، فلسطینیوں کی حمایت جاری رکھنے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے فلسطین کے دو ریاستی حل سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس کے موقع پر مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی سے ملاقات کی۔ جس میں دوطرفہ تعاون اور فلسطینی عوام کی حمایت جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور مصر کے درمیان گہرے، تاریخی اور برادرانہ تعلقات کا اعادہ کرتے ہوئے مختلف شعبوں بشمول طب، معدنیات، دفاع، تجارت اور سرمایہ کاری میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
ترجمان کے مطابق فریقین نے پاکستان اور مصر کے درمیان روابط کو مزید مضبوط بنانے، اقتصادی انضمام کو فروغ دینے اور تجارتی سرگرمیوں میں وسعت لانے پر اتفاق کیا۔ اس مقصد کے لیے اعلیٰ سطحی وفود کے تبادلے جلد کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
ترجمان نے بتایا کہ مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی نے عالمی فورمز پر پاکستان کے ساتھ جاری تعاون کو سراہتے ہوئے پاکستان کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت سنبھالنے پر مبارکباد دی۔
ملاقات میں دونوں وزرائے خارجہ نے فلسطینی عوام کی جدوجہد کی غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور اسرائیلی جارحیت کے فوری خاتمے اور انسانی امداد کی بلارکاوٹ فراہمی پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے دو ریاستی حل سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس کے مثبت اور تعمیری نتائج کی امید ظاہر کی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews اسحاق ڈار دوطرفہ تعاون فلسطین کی حمایت مصری وزیر خارجہ ملاقات وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار دوطرفہ تعاون فلسطین کی حمایت ملاقات وی نیوز مصر کے
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔