کرم کے شیعہ سنی عمائدین کا کوہاٹ میں جی او سی کی قیادت میں امن جرگہ
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
اسلام ٹائمز: جرگہ ممبر اور ایم ڈبلیو کے رہنماء شبیر حسین ساجدی نے کہا کہ منیر بنگش کی بات اپنی جگہ پر درست ہے، تاہم اس حقیقت سے بھی کوئی آنکھ نہ چرائے کہ 2007ء سے بہت پہلے 1983ء میں صدہ سے جو اہل تشیع بیدخل ہوچکے ہیں، پہلے انہیں آباد کرایا جائے۔ اسکے بعد صدہ سے بیدخل شدہ افراد کو بحال کیا جائے۔ رپورٹ: استاد ایس این حسینی
کرم میں مستقل امن کے قیام کی غرض سے کوہاٹ میں جی او سی کی قیادت میں شیعہ سنی عمائدین بشمول انجمن حسینیہ، تحریک حسینی اور انجمن فاروقیہ کا آپس میں امن جرگہ ہوا۔ جس میں کرم میں مستقل امن و امان کے قیام پر بات چیت ہوئی۔ اس موقع پر جی او سی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کرم سمیت پورے فاٹا میں امن کا قیام ناگزیر ہے اور ہر صورت میں کے پی میں امن لایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اہلیان کرم کے ساتھ اسلحہ کی جمع آوری کے حوالے سے بار بار بات ہوئی ہے۔ جس پر پوری طرح عمل نہیں ہوسکا ہے۔ چنانچہ ایک بار پھر یاد دہانی کراتے ہیں کہ ان کے پاس دو ہی آپشن ہیں، ایک یہ کہ رضاکارانہ طور پر بڑے ہتھیار حوالے کر دیں، ورنہ ہمیں آپریشن کرنا پڑے گا۔ روڈ کھلوانے کے حوالے سے انہوں نے کہا روزانہ 4 گھنٹے روڈ کھلا ہے، تاہم آپ کے اصرار پر اسے 2 گھنٹے مزید بڑھا کر 6 گھنٹے کرلیتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ سابق سیکرٹری انجمن حسینیہ جلال حسین بنگش نے کہا کہ روزانہ چار گھنٹے روڈ کھولنے سے ہمارا مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ انہوں نے روڈ کو مکمل طور پر کھولنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سٹیٹ کے خلاف جو بھی سامنے آتا ہے، ہم اس کے خلاف حکومت کے ساتھ ہیں۔ انجمن فاروقیہ کے سیکرٹری منیر حسین بنگش نے کہا کہ پاراچنار میں امن کے قیام کا انحصار اور دارومدار وہاں سے بیدخل شدہ اہل سنت کی آبادکاری پر ہے۔ اگر وہاں پر اہل سنت آباد ہوگئے، تو مکس ٹرانسپورٹ اور مکس مسافرین کی وجہ سے راستے میں کوئی جسارت نہیں کرے گا۔ لہذا ہم حکومت اور اہل تشیع سے مطالبہ کرتے ہیں کہ 2007ء میں وہاں سے بیدخل شدہ اہل سنت کو فوری طور پر آباد کرایا جائے۔
جرگہ ممبر اور ایم ڈبلیو کے رہنماء شبیر حسین ساجدی نے کہا کہ منیر بنگش کی بات اپنی جگہ پر درست ہے، تاہم اس حقیقت سے بھی کوئی آنکھ نہ چرائے کہ 2007ء سے بہت پہلے 1983ء میں صدہ سے جو اہل تشیع بیدخل ہوچکے ہیں، پہلے انہیں آباد کرایا جائے، اس کے بعد صدہ سے بیدخل شدہ افراد کو بحال کیا جائے۔ انجمن حسینیہ کے سیکرٹری حاجی ضامن حسین نے کہا کہ علاقائی ترقی کا دارومدار روڈ اور ٹریفک پر ہے، جبکہ ہمارا مین روڈ گذشتہ 10 ماہ سے بند پڑا ہے۔ لہذا حکومت پاکستان سے ہم پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ روڈ کو فوری طور پر کھول کر عوامی مشکلات کا ازالہ کیا جائے۔
ریاض شاہین نے کہا کہ امن کسے پسند نہیں اور کون ہے جو شرپسندوں یا دہشتگردی سے محبت رکھتا ہو۔ انہوں نے طوری عمائدین کے ساتھ گپ شپ کے انداز میں اور طنزاً بات کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ ہمیشہ سے یہی کہتے آرہے ہیں کہ ہم طالبان کے خلاف اور حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں تو یہ بتائیں کہ آپ نے کب حکومت کے ساتھ مل کر طالبان کے ساتھ جنگ کی ہے۔ صدر تحریک نے کہا کہ علاقے کی خوشحالی اور ترقی کا واحد ضامن امن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بھی امن ہی کو اہمیت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مکہ کی آبادی پر ابراہیم علیہ السلام نے سب سے پہلے امن کی اور بعد میں رزق کی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ سوشل میڈیا پر ایک دوسرے کے عقائد پر حملہ اور مقدسات کی توہین ہے۔
حالانکہ رسول اللہ سے خود اللہ کہتا ہے کہ آپ کا کام میرا پیغام پہنچانا ہے، باقی ان کی مرضی اسلام لائیں یا اپنے عقیدے پر رہیں، اس کی فکر آپ نہ کریں۔ انہوں نے آخر میں کہا کہ معاہدہ کوہاٹ کا ہم احترام کرتے ہیں، اس معاہدے کے تھرو امن کے قیام میں ہم حکومت کے ساتھ ہیں۔ تاہم معاہدے سے ہٹ کر ہم کسی بھی مطالبے کو ٹھکراتے ہیں۔ فخر زمان نے کہا کہ کرم کو کس کی نظر لگ گئی ہے۔ اس سے قبل تو جنگ دو دن رہتی تیسرے دن جنگ ختم ہو جاتی اور اس کے ساتھ ہی راستے کھل جاتے تھے۔ اس کے بعد کوئی کسی کو کچھ نہیں کہتا تھا۔ آج کل تو حالت یہ بنی ہے کہ جب ایک دفعہ لڑائی چھڑ جاتی ہے تو مہینوں تک جنگ جاری رہتی ہے اور رکنے کا نام نہیں لیتی۔ مجموعی طور پر جرگہ خوشگوار ماحول میں منعقد ہوا۔ شیعہ سنی عمائدین ایک دوسرے کے ساتھ نہایت شفقت اور محبت سے پیش آئے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: حکومت کے ساتھ انہوں نے کہا نے کہا کہ کے قیام ہیں کہ
پڑھیں:
کوڑا ٹیکس کی وصولی کی تیاریاں، محکمہ ایکسائز متحرک
علی ساہی:حکومت کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد محکمہ ایکسائز نے شہری علاقوں میں کوڑا ٹیکس کی وصولی کے لیے عملی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔
ذرائع کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صوبے کے شہری علاقوں میں 33 لاکھ سے زائد گھروں سے ٹیکس وصولی کا آغاز کیا جائے گا۔
محکمہ ایکسائز حکام کا کہنا ہے کہ مزید رہائشی اور کمرشل یونٹس کو نظام میں شامل کرنے کے لیے متعلقہ اداروں سے ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے، جبکہ وصولیوں کے مؤثر نظام کے لیے درکار انتظامی اور تکنیکی ضروریات پر بھی کام جاری ہے۔ اس حوالے سے جلد ایک جامع سمری منظوری کے لیے حکومت کو ارسال کی جائے گی۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
ذرائع کے مطابق ٹیکس وصولی کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے ابتدائی طور پر 70 گاڑیوں اور ساڑھے چھ سو ای بائیکس کی فراہمی کی درخواست کی جائے گی، تاکہ بلوں کی بروقت تقسیم اور وصولیوں کا عمل یقینی بنایا جا سکے۔
محکمہ ایکسائز نے بل تقسیم کرنے والے عملے کو سہولیات فراہم کرنے کے لیے ایک سے دو فیصد سروس چارجز کی بھی تجویز دی ہے، جبکہ بلوں کی پرنٹنگ اور دیگر انتظامی امور سے متعلق ورکنگ آخری مراحل میں ہے۔
جعلی امیدواروں کی شامت، پی پی ایس سی امتحانات میں بائیو میٹرک نظام نافذ
ایکسائز حکام کے مطابق محکمہ ایکسائز اور متعلقہ ادارے کے درمیان بلوں کی تقسیم اور وصولی کے طریقہ کار پر متعدد اجلاس منعقد ہو چکے ہیں، جبکہ آئندہ ماہ کے پہلے ہفتے دونوں اداروں کے درمیان باقاعدہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے جانے کا امکان ہے، جس کے بعد کوڑا ٹیکس کی وصولی کے عمل کو باضابطہ طور پر شروع کیا جائے گا۔