مفتاع اسماعیل پر ذاتی حملہ نہیں کیا، طارق فضل چوہدری نے وضاحت دیدی
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
مسلم لیگ ن کے رہنما طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ انہوں نے سابق وزیر خزانہ مفتاع اسماعیل پر ذاتی الزام نہیں لگایا بلکہ سینیٹ اجلاس میں بطور وزیرپارلیمانی امور متعلقہ وزارت کا جواب پڑھ کر سنایا۔
یہ بھی پڑھیں: مفتاع اسماعیل نے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی، اویس لغاری
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما طارق فضل چوہدری نے کہا کہ مفتاع اسماعیل پر کسی نے ذاتی طور پر اٹیک کرنے کوشش نہیں کی بلکہ مفتاع اسماعیل پرسنل ہوکر حملے کررہے ہیں۔
طارق فضل چوہدری نے کہا ’میں نے بطور وزیر پارلیمانی امور سینیٹ میں بے نظیر نشوونما پروگرام کے حوالے سے متعلقہ وزارت کا تحریری جواب پڑھ کر سنایا، پہلا سوال یہ ہے کہ کیا قواعد کی خلاف ورزی ہوئی، دوسرا سوال یہ تھا کیا مفتاع اسماعیل کو سارے معاملے کا علم تھا، میرے جواب میں نہ کوئی ذاتیات تھیں، نہ کرپشن کا الزام تھا۔
اس موقع پر مفتاع اسماعیل نے کہا کہ سینیٹ میں جو تقریر کی گئیاس میں کچھ جھوٹ تھا، کچھ گمراہی تھی، طارق فضل چوہدری اور انوشے رحمان نے میرے اوپر ذاتی حملہ کیا تھا، طارق فضل چوہدری کہہ سکتے تھے کہ مفتاع کے علاوہ دیگر ادوار میں بھی پروگرام بڑھا۔
یہ بھی پڑھیں: شہباز شریف کی اپنی شوگر ملیں ہیں، بطور وزیراعظم چینی سے متعلق فیصلے مفادات کا ٹکراؤ ہیں، مفتاح اسماعیل
مفتاع اسماعیل نے کہا کہ میں حکومت کے بارے میں سچ بولتا ہوں، چینی کے معاملے پر بات کرتا ہوں، اس لیے مجھ پر الزام لگائے جارہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: طارق فضل چوہدری نے مفتاع اسماعیل پر نے کہا
پڑھیں:
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائمقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اہم اجلاس31 جولائی کو طلب کر لیا گیا جس میں صدر پاکستان و چانسلر کی ہدایات پر قائمقام وی سی کی تعیناتی سے متعلق ایجنڈے پر دوبارہ غور کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق صدر پاکستان نے 24اپریل کو ریفرنس وزارت تعلیم کو بھجوایا ہے جس میں بطور چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن ایکٹ کی شق8(6)کے تحت سینٹ کے 17ویں اجلاس کے ایجنڈا نمبر13پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
دستیاب دستاویز کے مطابق 5 جنوری2026 کو ہونے والے سینیٹ کے17ویں اجلاس میں سابق وائس چانسلر پروفیسر حناطیبہ خلیل کو بطور وائس چانسلر کام جاری رکھنے کی منظوری دی گئی حالانکہ پروفیسر حنا طیبہ خلیل دو ٹرم مکمل کر چکی تھیں۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تعلیم نے بھی پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کے سینٹ اجلاس (جس میں حناطیبہ خلیل کو قائمقام وائس چانسلر ذمہ داریاں جاری رکھنے کی منظوری دی) کو کالعدم قرار دینے کی سفارش کر رکھی۔
قائمہ کمیٹی کی چیئرپرسن بشری انجم بٹ نے اجلاس کے دوان کہا تھا کہ عبوری وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ایوان صدر نے واضح کیا تھا کہ ایجنڈے کی منظوری نہیں لی گئی تھی۔
ذرائع نے بتایا کہ بشری انجم بٹ نے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن کی وائس چانسلر کی تعیناتی سے متعلق ریفرنس ایوان صدر کو بھجوایا جس میں کہا گیا کہ انسٹی ٹیوٹ کے فیکلٹی ممبران ،افسران اور سٹیک ہولڈرز کی جانب سے الزامات لگائے کہ پروفیسر حناطیبہ خلیل وائس چانسلر بد انتظامی اور اختیارات کے غلط استعمال کی پریکٹس میں ملوث ہیں۔
انسٹی ٹیوٹ کی پروکیورمنٹ اور مالی معاملات میں بے ضابطگیوں سمیت انسٹی ٹیوٹ میں گورننس کے بدترین صورتحال ہے، اس کے علاوہ گرلز ہاسٹل کی تعمیر سے متعلق 450 ملین کے ٹینڈرز میں مبینہ بے ضابطگیاں بھی ہوئی ہیں۔
ایوان صدر نے سینیٹر بشری انجم بٹ کی جانب سے بھجوائے گئے ریفرنس پر اپنی سفارشات وزارت تعلیم کو بھجوا دی ہیں،
وزارت تعلیم کے ذرائع نے سینیٹ اجلاس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان صدر کی ہدایات کی روشنی میں سینئر فیکلٹی ممبر کو ہی قائمقام وائس چانسلر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن تعینات کیا جائے گا اور اس حوالے سے سنیارٹی لسٹ منگوا لی گئی ہے،