سپریم کورٹ: جسٹس طارق مسعود اور جسٹس مظہر عالم کے اعزاز میں الوداعی تقریب، چیف جسٹس کا زبردست خراجِ تحسین
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
سپریم کورٹ آف پاکستان میں جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس مظہرعالم خان میاں خیل کے اعزاز میں ایک پروقار الوداعی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جہاں چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس یحییٰ آفریدی نے سبکدوش ہونے والے دونوں جج صاحبان کی عدالتی خدمات پر انہیں خراج تحسین پیش کیا۔
تقریب میں سپریم کورٹ کے تمام معزز ججز نے شرکت کی۔ چیف جسٹس نے اپنے خطاب میں کہا کہ جسٹس طارق مسعود اور جسٹس مظہر عالم نے بالخصوص فوجداری مقدمات کے فیصلوں میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا، اور عدالت کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔
مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کے 2 ایڈہاک ججز مدت مکمل ہونے پر سبکدوش
چیف جسٹس کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران سپریم کورٹ میں 7,196 فوجداری مقدمات کے فیصلے کیے گئے، جن میں سے 2,220 مقدمات دونوں جج صاحبان پر مشتمل بینچ نے نمٹائے، جو کل فیصلوں کا 30 فیصد سے زائد بنتا ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ دونوں جج صاحبان نے قانون فہمی، اصولی فیصلوں اور فوجداری قانون پر گہری دسترس کے باعث ایسے فیصلے دیے جو آئندہ قانونی تشریحات کے لیے نظیر بنیں گے۔ ان کی شائستگی، آئینی اصولوں سے وابستگی اور باوقار رویے نے نہ صرف بینچ، بلکہ بار اور سائلین میں بھی انہیں بے پناہ عزت دلائی۔
تقریب کا اختتام دعا اور نیک تمناؤں کے ساتھ ہوا، اور عدالتی برادری نے دونوں جج صاحبان کی عدلیہ کے لیے خدمات کو قابلِ فخر ورثہ قرار دیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الوداعی تقریب جسٹس سردار طارق مسعود جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل سپریم کورٹ آف پاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: الوداعی تقریب جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل سپریم کورٹ آف پاکستان سپریم کورٹ چیف جسٹس
پڑھیں:
حج تھا یا پکنک؟ شدید تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخر عالم نے خاموشی توڑ دی
سابق قومی کرکٹر وسیم اکرم، مصباح الحق، فخرِ عالم، سعید انور اور دیگر معروف شخصیات کے حج سفر پر سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخرِ عالم نے وضاحت کرتے ہوئے ناقدین کو جواب دے دیا۔
انہوں نے سر منڈوانے سے متعلق تنقید پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ لوگ سوال کر رہے تھے کہ ہم نے سر کیوں نہیں منڈوائے۔ حج پر روانگی سے قبل ہم نے علمائے کرام سے رہنمائی لی تھی جنہوں نے ہمیں دو آپشن دیے تھے کہ یا تو مکمل سر منڈوا لیا جائے یا قصر کرائی جائے جس میں بالوں کا کچھ حصہ کاٹا جاتا ہے۔ ہم نے دوسرا طریقہ منتخب کیا۔
@timesofkarachi Why didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq ♬ original sound – Times of Karachiانہوں نے مزید کہا کہ دوسری تنقید یہ تھی کہ ہم حج پر آئے تھے یا پکنک منانے؟ حج ایک عبادت ہے اور دن کے چوبیس گھنٹوں میں انسان عبادت بھی کرتا ہے، دوستوں سے ملتا جلتا بھی ہے، دعائیں بھی مانگتا ہے اور کبھی مسکراتا اور خوشی کا اظہار بھی کرتا ہے۔ یہ سب بھی حج کے تجربے کا حصہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری لوگوں سے گزارش ہے کہ تنقید کرنے سے پہلے ان معاملات کو اچھی طرح سمجھیں۔ ہم نے نوجوانوں کی رہنمائی اور انہیں حج کی ترغیب دینے کے لیے ویڈیوز بنائیں تاکہ وہ اس بابرکت سفر کی منصوبہ بندی کر سکیں۔
حج کے سفر کے بارے میں بات کرتے ہوئے فخرِ عالم نے کہا کہ ہم حج مکمل کر چکے ہیں اور لوگ ہم سے مختلف سوالات کر رہے ہیں۔ سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال یہ ہے کہ آخر ہمیں حج پر جانے کی ترغیب کس چیز نے دی؟
اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ کوئی خاص منصوبہ نہیں تھا۔ میں نے اپنے دوست سے کہا تھا کہ جب مجھے اندر سے آمادگی محسوس ہوگی تب میں حج کے لیے جاؤں گا۔ چونکہ آپ اور مصباح پہلے ہی جا رہے تھے اس لیے میں نے بھی ساتھ جانے کا فیصلہ کر لیا۔ میری عمر جلد 60 سال ہونے والی ہے اس لیے مجھے لگا کہ یہی مناسب وقت ہے۔
مصباح الحق نے بھی اپنے حج کے تجربے پر خوشی اور اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان کی زندگی کا ایک خاص سفر تھا اور دوستوں کے ساتھ اس روحانی تجربے کو شیئر کرنے سے یہ یادگار لمحہ مزید خوبصورت بن گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
حج حج 2026 فخر عالم مصباح الحق وسیم اکرم