سپریم کورٹ آف پاکستان میں جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس مظہرعالم خان میاں خیل کے اعزاز میں ایک پروقار الوداعی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جہاں چیف جسٹس آف پاکستان جناب جسٹس یحییٰ آفریدی نے سبکدوش ہونے والے دونوں جج صاحبان کی عدالتی خدمات پر انہیں خراج تحسین پیش کیا۔

تقریب میں سپریم کورٹ کے تمام معزز ججز نے شرکت کی۔ چیف جسٹس نے اپنے خطاب میں کہا کہ جسٹس طارق مسعود اور جسٹس مظہر عالم نے بالخصوص فوجداری مقدمات کے فیصلوں میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا، اور عدالت کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

مزید پڑھیں: سپریم کورٹ کے 2 ایڈہاک ججز مدت مکمل ہونے پر سبکدوش

چیف جسٹس کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران سپریم کورٹ میں 7,196 فوجداری مقدمات کے فیصلے کیے گئے، جن میں سے 2,220 مقدمات دونوں جج صاحبان پر مشتمل بینچ نے نمٹائے، جو کل فیصلوں کا 30 فیصد سے زائد بنتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ دونوں جج صاحبان نے قانون فہمی، اصولی فیصلوں اور فوجداری قانون پر گہری دسترس کے باعث ایسے فیصلے دیے جو آئندہ قانونی تشریحات کے لیے نظیر بنیں گے۔ ان کی شائستگی، آئینی اصولوں سے وابستگی اور باوقار رویے نے نہ صرف بینچ، بلکہ بار اور سائلین میں بھی انہیں بے پناہ عزت دلائی۔

تقریب کا اختتام دعا اور نیک تمناؤں کے ساتھ ہوا، اور عدالتی برادری نے دونوں جج صاحبان کی عدلیہ کے لیے خدمات کو قابلِ فخر ورثہ قرار دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الوداعی تقریب جسٹس سردار طارق مسعود جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل سپریم کورٹ آف پاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: الوداعی تقریب جسٹس مظہر عالم خان میاں خیل سپریم کورٹ آف پاکستان سپریم کورٹ چیف جسٹس

پڑھیں:

نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا

نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
 

متعلقہ مضامین

  • وزیر داخلہ محسن نقوی کا مستونگ میں کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • پاکستانی سفیر کی جانب سے پاکستان اور میانمار کی ممتاز کاروباری شخصیات کے اعزاز میں عشائیہ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • اسپاٹیفائی کا عاطف اسلم کو خراج تحسین، گلوکار کی عالمی مقبولیت کا معترف