آزاد کشمیر میں بچی کو گھر سے اٹھا کر جان سے مارنے والے تیندوے کو گولی مار کر ہلاک کردیاگیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
مظفر آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) آزادکشمیر میں شہریوں پر بار بار حملہ کرنے والے تیندوےکو گولی مارکر ہلاک کردیا گیا۔ ایل او سی سےمتصل گاؤں گہانی تنگ میں آبادی پر حملہ کرنے والے تیندوےکو گولی مارکر ہلاک کیا گیا۔
ایس پی مرزا زاہد کے مطابق مقامی افراد نے شناخت کی کہ مرنے والا تیندوا وہی ہے جو آبادی میں انسانوں پر حملہ آور ہوا۔دو روز قبل تیندوا گھر سے 8 سالہ بچی کو اٹھا کر لےگیا تھا، بعد میں بچی مردہ حالت میں ملی تھی، تیندوے نےگزشتہ روز بھی حملہ کرکے ایک نوجوان کو زخمی کیا تھا۔ایس پی مرزا زاہدکا کہنا ہےکہ خونخوار جانور ایک بار انسانوں پر حملہ کردیں تو باربار حملےکی کوشش کرتے ہیں۔
سری لنکا کے سابق نیول چیف گرفتار, کیوں گرفتار کیا گیا ۔۔؟ وجہ بھی سامنے آ گئی
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔