جہلم ویلی: انسانی آبادی پر حملہ کرنے والے تیندوے کو ہلاک کردیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
آزاد کشمیر کے ضلع جہلم ویلی کی لائن آف کنٹرول سے متصل علاقے پانڈو میں انسانی آبادی پر حملہ کرنے والے خونخوار تیندوے کو بالآخر ہلاک کردیا گیا۔
ایس پی جہلم ویلی مرزا زاہد حسین کے مطابق پاک فوج نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے درندے کو مار گرایا، جس سے مقامی آبادی کو ایک بڑے خطرے سے بچا لیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر کے علاقے ہٹیاں بالا میں تیندوے کا حملہ، 8 سالہ بچی جاں بحق
خونخوار تیندوے کی دہشت کے باعث علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔ 2 روز قبل تیندوا 8 سالہ بچی کو گھر کے صحن سے اٹھا کر لے گیا تھا، جس کی لاش بعد ازاں کھیتوں سے برآمد ہوئی۔
اس کے بعد گزشتہ روز بھی اسی علاقے میں تیندوے کے حملے سے 17 سالہ ایک نوجوان زخمی ہوگیا تھا۔
ایس پی مرزا زاہد حسین کا کہنا ہے کہ آج بھی تیندوا دوبارہ آبادی میں گھس آیا تھا، تاہم پاک فوج نے فوری ایکشن لیتے ہوئے جان لیوا حملوں کا سلسلہ ختم کردیا۔
مقامی شہریوں نے خونخوار تیندوے سے نجات دلانے پر پاک فوج کا شکریہ ادا کیا، جبکہ محکمہ وائلڈ لائف کی کارکردگی پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر سے ریسکیو کی گئی زخمی مادہ تیندوا جاں بر نہ ہوسکی
عوام کا کہنا ہے کہ محکمہ وائلڈ لائف کی جانب سے بروقت اقدامات نہ ہونے کے باعث قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews انسانی آبادی پر حملہ ایس پی جہلم ویلی پاک فوج تیندوا ہلاک جہلم ویلی مرزا زاہد حسین وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انسانی ا بادی پر حملہ پاک فوج تیندوا ہلاک جہلم ویلی مرزا زاہد حسین وی نیوز جہلم ویلی پاک فوج
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔