نریندر مودی اور ٹرمپ کے درمیان "آپریشن سندور" کے چلتے کوئی فون کال نہیں ہوئی، ایس جئے شنکر
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
اپنی تقریر کے دوران بھارتی وزیر خارجہ نے واضح لفظوں میں کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کوئی ثالث نہیں تھا، جنگ بندی کی پیش قدمی پاکستان کی طرف سے ہوئی۔ اسلام ٹائمز۔ پارلیمنٹ میں "آپریشن سندور" پر جاری بحث کے دوران برسر اقتدار طبقہ کی طرف سے مرکزی وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جئے شنکر جب اپنی بات رکھ رہے تھے، تو اپوزیشن کی طرف سے کئی سوالات اٹھائے گئے۔ اس درمیان ہنگامے کی صورت بھی بنتی ہوئی دیکھی گئی اور ایک وقت تو ایسا بھی آیا جب مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ انتہائی ناراض ہوگئے۔ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ اپوزیشن کو وزیر خارجہ پر بھروسہ نہیں ہے، بلکہ کسی دوسرے ملک پر بھروسہ ہے۔ دراصل مرکزی وزیر خارجہ جئے شنکر آپریشن سندور اور اس کے بعد پیدا حالات پر اپنی بات رکھ رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی۔ پاکستان نے ٹی آر ایف (دہشت گرد تنظیم) کا دفاع کیا۔ پھر 7 مئی کی صبح پیغام دیا گیا اور پاکستان کو سبق سکھایا گیا۔ ایس جئے شنکر کہتے ہیں کہ ہم نے پاکستان کو سخت پیغام دیا، اپنے شہریوں کی حفاظت کرنا ہندوستان کا حق ہے اور ہندوستان اب جوہری بلیک میلنگ نہیں برداشت کرے گا۔
اپنی تقریر کے دوران وزیر خارجہ نے واضح لفظوں میں کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان کوئی ثالث نہیں تھا، جنگ بندی کی پیش قدمی پاکستان کی طرف سے ہوئی، پاکستان نے جنگ بندی کی گزارش کی۔ وہ مزید جانکاری دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ 9 مئی کی صبح امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے فون پر کہا کہ پاکستان بڑا حملہ کر سکتا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے ان سے واضح لفظوں میں کہہ دیا کہ ہندوستان منھ توڑ جواب دے گا۔ جئے شنکر نے ایک بار پھر کسی بھی طرح کی ثالثی سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کی پیش قدمی پاکستان کی طرف سے ہوئی تھی۔ ایسے میں ہم نے صاف کہہ دیا تھا کہ پاکستان اگر جنگ روکنا چاہتا ہے تو اس کے ڈی جی ایم او ہمارے ڈی جی ایم او سے بات کریں۔
مرکزی وزیر خارجہ نے نریندر مودی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے درمیان "آپریشن سندور" سے متعلق کسی بھی بات چیت سے صاف انکار کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم مودی اور صدر ٹرمپ کے درمیان 22 اپریل سے 17 جون تک کوئی فون کال نہیں ہوئی۔ اس بیان پر پارلیمنٹ میں ہنگامہ شروع ہوگیا۔ اپوزیشن لیڈران ٹرمپ کے بیانات کا حوالہ دینے لگے۔ اس ہنگامہ کے درمیان وزیر داخلہ امت شاہ کھڑے ہوئے اور کہا کہ ہندوستان کا وزیر خارجہ یہاں بول رہا ہے، ان (اپوزیشن لیڈران) کو وزیر خارجہ پر بھروسہ نہیں ہے بلکہ کسی اور ملک پر بھروسہ ہے، اسی لئے یہ وہاں (اپوزیشن میں) بیٹھے ہوئے ہیں، اگلے 20 سال تک وہیں بیٹھنے والے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کہ ہندوستان جنگ بندی کی کے درمیان کی طرف سے ٹرمپ کے کہا کہ
پڑھیں:
پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل عرفان سومرو نے کہا ہے کہ تجارتی ڈپلومیسی حکومت پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے اور پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ محض تجارتی حجم بڑھانے کا خواہاں نہیں بلکہ مضبوط اور پائیدار معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے۔
فیڈریشن ہاؤس کراچی میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے زیر اہتمام ڈی ایٹ چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (D-8 CCI) کی پاکستان نیشنل کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے دائریکٹر جنرل وزارت خارجہ عرفان سومرو نے کہا کہ ڈی ایٹ کے قیام کو تین دہائیاں گزر چکی ہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ اس وژن کو عملی اقدامات میں تبدیل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ ممالک کی مشترکہ معیشت تقریباً 5 ہزار ارب ڈالر پر مشتمل ہے اور ایک ارب سے زائد آبادی مشرق بعید سے افریقہ تک پھیلی ہوئی ہے، جو باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع فراہم کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ زراعت، معدنیات، سیاحت اور نوجوان افرادی قوت ڈی ایٹ ممالک کے اہم اثاثے ہیں، تاہم مختلف مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر مؤثر عمل درآمد نہ ہونے کے باعث رکن ممالک اپنی حقیقی معاشی صلاحیت سے بھرپور فائدہ نہیں اٹھا پا رہے۔
ڈی جی وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان کی ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ سالانہ تجارت تقریباً 11 ارب ڈالر ہے، جس میں 8 ارب ڈالر درآمدات جبکہ 2.8 ارب ڈالر برآمدات شامل ہیں، اس عدم توازن کو کم کرنے اور برآمدات میں اضافے کی ضرورت پر زور دیا۔
عرفان سومرو نے کہا کہ پاکستان کی بندرگاہیں اور نوجوان آبادی ملکی معیشت کے لیے قیمتی اثاثہ ہیں، کاروباری برادری پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ پاکستانی سفارت خانوں کے ساتھ روابط بڑھائے تاکہ نئی منڈیوں تک رسائی اور سرمایہ کاری کے مواقع سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت بین الاقوامی معاہدے اور سازگار پالیسی فریم ورک فراہم کر سکتی ہے، تاہم تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینا نجی شعبے کی ذمہ داری ہے، اس سلسلے میں ایف پی سی سی آئی کا کردار انتہائی اہم ہے۔
ڈائریکٹر جنرل وزارت خارجہ نے خواتین اور نوجوان کاروباری افراد پر زور دیا کہ وہ علاقائی تجارت اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کریں، پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کے صدر عاطف اکرام شیخ نے قاہرہ میں منعقدہ چوتھی ڈی ایٹ ٹریڈ منسٹر کونسل کے فیصلوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے استنبول میں ترکیہ کی تنظیم TOBB کی سرپرستی میں ڈی ایٹ چیمبرز کے مستقل سیکرٹریٹ کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا۔
ڈی ایٹ سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے اپنے خصوصی پیغام میں رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ حلال معیشت، مالیاتی انضمام اور علاقائی تجارت کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض مگوں نے کہا کہ ڈی ایٹ ممالک کے درمیان اندرونی تجارت میں نمایاں اضافہ وقت کی اہم ضرورت ہے اور فیڈریشن پریفرینشل ٹریڈ ایگریمنٹ (پی ٹی اے) کو ناگزیر سمجھتی ہے۔
اجلاس میں انڈونیشیا، ترکیہ، ایران، مصر، ملائیشیا، نائجیریا، آذربائیجان اور بنگلہ دیش کے قونصل جنرلز، سینئر سفارت کاروں، ایف پی سی سی آئی کے نائب صدور امان پراچہ، آصف سخی، سابق صدر زبیر طفیل، سابق نائب صدور خالد تواب، حنیف گوہر، شبیر منشا، ناہید مسعود، نازلی عابد، ماہین خان اور دیگر کاروباری رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔