اسلام آباد :پاک ایران فرینڈشپ فورم کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے سینئر رہنما عزیز الرحمٰن کی قیادت میں اسلام آباد میں واقع اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارت خانے کا خیرسگالی دورہ کیا۔ وفد میں ساجد اقبال چوہدری، محمد عرفان تبسم اور محمد عارف خان شامل تھے۔ ملاقات کے دوران وفد نے تھرڈ سیکریٹری اور سربراہ شعبہ اطلاعات جناب ہادی گلریز سے ملاقات کی اور حالیہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف ایران کی قیادت اور عوام کی جرات مندانہ اور اصولی موقف اور بہترین حکمتِ عملی پر خراجِ تحسین پیش کیا۔

وفد نے مظلوموں کی حمایت میں جان دینے والے ایرانی شہداء کے لیے دلی دعائیں بھی کیں۔دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے عزیز الرحمٰن نے جناب ہادی گلریز کو گجرات کے دورے کی دعوت دی۔ مجوزہ دورہ پاک ایران فرینڈشپ فورم کے زیرِ انتظام ہوگا جس میں براق سٹی، کلفٹ اینڈ ٹریننگ کیمپ گجرات، گجرات چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، گجرات پریس کلب اور دیگر اہم مقامات شامل ہیں جناب ہادی گلریز نے اس دعوت کو قدر کی نگاہ سے دیکھا اس اقدام کو سراہا اور وفد کو یقین دلایا کہ متعلقہ حکام سے مشاورت کے بعد دورے کو حتمی شکل دی جائے گی۔

یہ ملاقات باہمی اعتماد، ثقافتی ہم آہنگی اور عوامی روابط کے فروغ کی علامت تھی۔ دونوں جانب سے اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان عوامی سطح پر تعلقات اور نچلی سطح کی سفارت کاری کو مزید تقویت دینے کی ضرورت ہے۔ اگر اس دورے کو حتمی شکل دی جاتی ہے تو یہ دونوں برادر ممالک کے درمیان تعلیمی، تجارتی، ثقافتی اور انسانی ہمدردی کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دے گا۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم

 احمد جواد، چیف آرگنائزر پاکستان بزنس فورم۔

پاکستان بزنس فورم نے حکومت سے بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کا مطالبہ کیا ہے۔ فورم کے چیف آرگنائز احمد جواد نے کہا کہ انتخابات کے بعد حکومت کا تیسرا بجٹ ہے، اس بجٹ میں حکومت معاشی سمت واضح کرے۔ 

احمد جواد نے مزید کہا کہ اس وقت ریجن میں ہماری کاروباری لاگت 34 فیصد سے زیادہ ہے، توقع ہے آنے والا بجٹ گروتھ کی طرف ہوگا، موجودہ ٹیکسز میں کمی ہوگی۔ 

انہوں نے کہا کہ اس وقت بزنس کمیونٹی مایوسی کا شکار ہے، کاروبار بند ہو رہے ہیں۔ 

احمد جواد نے کہا کہ کاروبار بند ہونے سے بزنس کمیونٹی کو بچا لیا جائے۔ پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر کا کہنا تھا کہ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ 

انہوں نے کہا کہ بجلی اور گیس بلوں کے یونٹ کو مسابقتی ریٹ پر لایا جائے تاکہ بلز برداشت ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم