چین کے شی شیا شاہی مقبرے کو عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کر لیا گیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
BEIJING:
فرانس میں یونیسکو کے 47 ویں عالمی ثقافتی ورثہ کے اجلاس میں ایک قرارداد کے ذریعے چین کی جانب سے نامزد "شی شیا شاہی مقبرے” کو عالمی ثقافتی ورثے میں شامل کر لیا گیا۔
چین کے میڈیا کی رپورٹ کے مطابق "شی شیا شاہی مقبرے” چین کے شمال مغربی علاقے نینگ شیا ہوئی کے خود مختار علاقے کے شہر ینچوان میں واقع 11ویں سے 13ویں صدی کے درمیان تانگ شیانگ قومیت کی قائم کردہ شی شیا بادشاہت (1038–1227) کے شاہی مقبروں کے آثار کا مجموعہ ہے۔
اس حوالے سے بتایا گیا کہ شی شیا شاہی مقبرے کی شمولیت کے بعد چین کے عالمی ثقافتی ورثہ کے مقامات کی تعداد 60 تک پہنچ گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ شی شیا شاہی دور کے اب تک محفوظ شدہ سب سے بڑا، اعلیٰ ترین درجے کا اور جامع ترین آثار قدیمہ کا مقام ہے۔
مزید بتایا گیا کہ یہ شاہراہ ریشم پر شی شیا بادشاہت کی ایک اہم کڑی اور مرکزی حیثیت کے حوالے سے ثبوت کا مظہر ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شی شیا شاہی مقبرے عالمی ثقافتی
پڑھیں:
راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
راولپنڈی کے تھانہ سول لائن کے علاقے گلستان کالونی میں فیکٹری کے استاد کی 14 سالہ شاگرد سے مبینہ زیادتی و انسانیت سوز سلوک کا کیس سامنے آنے پر پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔
پولیس کے مطابق بچے کے والد نے بتایا 14 سالہ بیٹا پلاسٹک کے دروازے کھڑکیاں بنانے والی فیکٹری میں کام سیکھ رہا ہے، جہاں اسد جہانگیر نامی شخص نے اُسے مبینہ بدفعلی کا نشانہ بنایا۔
والد کے مطابق اسد جہانگیر نے آج فون پر بتایا کہ آپکے بیٹے کی طبیعت اچانک خراب ہوگی اسکو اسپتال لے کر آئے ہیں اور ڈاکٹر بچے کے والد کو بلوا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اسپتال پہنچا تو بیٹے نے گلے لگ کر سہمے ہوئے انداز بتایا کہ اسکے فیکٹری کے استاد اسد جہانگیر نے مبینہ زیادتی کا نشانہ بنایا اور مزید بتایا فیکٹری استاد اسد جہانگیر نے مبینہ بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پرائیویٹ پارٹ میں پائپ بھی ڈالتا رہا۔
پولیس نے والد کی درخواست پر مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ ایس پی پوٹھوہار سردار بابر ممتاز کا نے کہا کہ متاثرہ لڑکے کا میڈیکل کروایا جارہا ہے جس کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے متاثرہ خاندان کو یقین دہانی کرائی کہ زیر حراست شخص کو ٹھوس شواہد کے ساتھ چالان کیا جائے گا،خواتین ، بچوں سے ہراسمنٹ یا زیادتی ناقابل برداشت ہیں۔