امریکا نے بھارت پر 10فیصد ٹیرف لگا دیا، مودی سرکار کو ٹرمپ کا زبردست جھٹکا
اشاعت کی تاریخ: 11th, July 2025 GMT
امریکا نے بھارت پر 10فیصد ٹیرف لگا دیا، مودی سرکار کو ٹرمپ کا زبردست جھٹکا WhatsAppFacebookTwitter 0 11 July, 2025 سب نیوز
واشنگٹن (سب نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت سمیت برکس ممالک پر سخت تجارتی پابندیوں کا اعلان کر دیا ہے۔ٹرمپ نے کہا ہے کہ بھارت کو بھی 10 فیصد ٹیرف دینا ہوگا، اور کسی قسم کی تجارتی رعایت یا استثنی نہیں دی جائے گی۔
صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ برکس کا قیام امریکی معیشت کو نقصان پہنچانے اور ڈالر کو کمزور کرنے کے لیے کیا گیا۔ اگر کوئی ڈالر کو چیلنج کرے گا تو ہم اس کی اجازت نہیں دیں گے۔انہوں نے واضح کیا کہ بھارت بھی چونکہ برکس کا حصہ ہے، اس لیے وہ بھی نئی ٹیرف پالیسی کے دائرے میں شامل ہوگا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے بھارت کی برآمدات متاثر ہونگی، جبکہ امریکی منڈی میں بھارتی مصنوعات مہنگی ہو جائیں گی۔ بھارت پہلے ہی اندرونی اقتصادی بحران اور زرِ مبادلہ کے دبا سے دوچار ہے، اب اس نئی امریکی پالیسی نے بھارتی معیشت کو مزید جھنجھوڑ دیا ہے۔
سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق مودی حکومت کی غیر متوازن خارجہ پالیسی اور امریکہ و چین کے درمیان دو طرفہ تعلقات میں الجھنے کے باعث بھارت کو عالمی سطح پر سفارتی تنہائی اور معاشی دباو کا سامنا ہے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبربھارت نے 3بڑی اسٹریٹجک غلطیاں کیں، یکطرفہ اقدامات کی کوئی حیثیت نہیں، جنرل (ر)زبیر محمود حیات بھارت نے 3بڑی اسٹریٹجک غلطیاں کیں، یکطرفہ اقدامات کی کوئی حیثیت نہیں، جنرل (ر)زبیر محمود حیات سندھ میں اندراج مقدمے میں تاخیر کا رجحان تشویشناک ہے، سپریم کورٹ کے ریمارکس فرسودہ نظام سے ترقی ممکن نہیں، وزیراعظم کی ماہرین پر مشتمل ماڈل اپنانے کی ہدایت خیبرپختونخوا اسمبلی میں مخصوص نشستوں پر ارکان کا نوٹیفکیشن جاری پاکستان اور روس کے درمیان اسٹیل ملز کی بحالی کا معاہدہ، پروٹوکول پر دستخط پاکستان کیخلاف بھارتی پروپیگنڈا بے نقاب، مودی سرکار نے جھوٹ پر مبنی کتاب شائع کر دیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: نے بھارت
پڑھیں:
بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
امریکہ کی ریاست ایڈاہو کے ایک خاموش اور خوبصورت پہاڑی علاقے سن ویلی(Sun Valley) میں ہر سال جولائی کے مہینے میں ایک ایسی تقریب ہوتی ہے جہاں دنیا کے امیر ترین اور بااثر افراد اکٹھے ہوتے ہیں۔
اس خاص اور خفیہ محفل کو غیر رسمی طور پر ”ارب پتیوں کا سمر کیمپ“ کہا جاتا ہے۔ یہاں دنیا کے نامور اور طاقتور لوگ جیسے جیف بیزوس، مارک زکربرگ، بل گیٹس اور ایلن مسک بغیر کسی دکھاوے کے ایک ساتھ وقت گزارتے ہیں۔
یہ سلسلہ 1983 سے چلا آ رہا ہے جسے ایلن اینڈ کمپنی نامی ایک معاشی ادارہ منعقد کرواتا ہے۔ اس تقریب میں شامل ہونے کے لیے کوئی ٹکٹ نہیں خریدی جا سکتی اور نہ ہی انٹرنیٹ پر کوئی رجسٹریشن ہوتی ہے۔ یہاں صرف وہی لوگ آ سکتے ہیں جنہیں ذاتی طور پر دعوت نامہ بھیجا جاتا ہے۔ منتظمین کی طرف سے اس تقریب کی کوئی باقاعدہ مہمانوں کی فہرست یا شیڈول جاری نہیں کیا جاتا۔ اس سال یہ تقریب 7جولائی سے 11 جولائی 2026 تک منعقد ہوئی۔
اس کانفرنس کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ روایتی دفتری میٹنگز کی طرح نہیں ہوتی۔ یہاں نہ طویل اجلاس ہوتے ہیں اور نہ ہی بڑی بڑی پریزنٹیشنز۔
امیر ترین شخصیات سوٹ بوٹ پہننے کے بجائے عام جوتوں اور آرام دہ کپڑوں میں نظر آتی ہیں۔ لوگ دن کے وقت پہاڑوں پر سیر کرتے ہیں، گولف کھیلتے ہیں، سائیکل چلاتے ہیں، مچھلی پکڑتے ہیں اور شام کو مل کر کھانا کھاتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں سونے کی قیمت میں کمی
اس سال کی ملاقات میں جدید ترین ٹیکنالوجی اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس یعنی اے آئی کا موضوع سب سے زیادہ چھایا رہا۔ اس تقریب میں ٹیکنالوجی اور کاروبار کی دنیا کے کئی بڑے نام شامل ہوئے۔
اگرچہ اس کیمپ میں میڈیا اور کیمروں کی اجازت نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی بڑا باضابطہ اعلان کیا جاتا ہے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا کے کئی بڑے کاروباری معاہدوں کی بنیاد اسی خاموش جگہ پر رکھی جاتی ہے جو بعد میں دنیا کے سامنے آتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بہت سے شرکا اپنے اہلِ خانہ کو بھی ساتھ لاتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ تقریب ایک کاروباری اجلاس سے زیادہ ایک پُرتعیش خاندانی تعطیلات کا منظر پیش کرتی ہے۔ تاہم، اس کے باوجود دنیا بھر کی نظریں ہر سال اس خفیہ سمر کیمپ پر لگی رہتی ہیں، کیونکہ یہاں ہونے والی ملاقاتیں مستقبل کی عالمی معیشت اور ٹیکنالوجی کی سمت کا تعین بھی کر سکتی ہیں۔