یمنی مسلح افواج نے انکشاف کیا ہے کہ بحیرہ احمر میں حال ہی میں نشانہ بننے والی صیہونی بحری کمپنی کے بحری جہازوں نے متعدد بار ترکی و مصر کی بندرگاہوں سے بھی قابض اسرائیلی رژیم کو سامان پہنچایا ہے اسلام ٹائمز۔ یمنی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے فوجی ذرائع سے نقل کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی بحری جہاز اٹرنٹی سی (ETERNITY C) کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب اس کے کپتان نے یمنی بحریہ کی جانب سے جاری کردہ اس انتباہ کا جواب دینے سے انکار کر دیا کہ اگر اس نے جواب نہ دیا تو اس کے بحری جہاز کو براہ راست طور پر نشانہ بنایا جائے گا۔ یمنی فوجی ذرائع نے تاکید کی کہ اس صیہونی بحری جہاز کو اس وقت نشانہ بنایا گیا جب اس نے "فوری طور پر رُک جانے" سے متعلق، بین الاقوامی چینل (16) کے ذریعے جاری ہونے والی یمنی بحریہ کی متعدد وارننگز کو نظر انداز کیا۔

رپورٹ کے مطابق اٹرنٹی سی نامی بحری جہاز کو کاسمو شپ مینیجمنٹ (COSMO SHIP MANAGTMENT SA) نامی کمپنی کے ذریعے چلایا جاتا تھا، جبکہ اس کمپنی کے کئی ایک بحری جہاز اسرائیلی بندرگاہوں کے ساتھ منسلک ہیں جیسا کہ کمپنی کے فعال بحری جہازوں میں ایچ ایس ایل نائیک (HSL NIKE) بھی شامل ہے کہ جس نے رواں سال مارچ، اپریل، جون اور جولائی میں اپنے 4 دوروں کے دوران ترکی و مصر کی بندرگاہوں سے مختلف قسم کا سامان مقبوضہ فلسطینی سرزمین پر قابض سفاک صیہونی رژیم کی بندرگاہ حیفا تک پہنچایا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسی کمپنی کا ایک اور فعال جہاز فیتھ (FAITH) بھی ہے کہ جس نے حالیہ مہینوں میں ہی ترکی و مصری بندرگاہوں سے 2 کھیپیں اسرائیل پہنچائی ہیں۔ 

یمنی فوجی ذرائع نے تاکید کی کہ ہم تمام جہازران کمپنیوں، سمندری برادری اور مقامی باشندوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ قابض صیہونی رژیم کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعامل یا تعاون میں شریک نہ ہوں، چاہے ان کی پیشکش کچھ بھی ہو، تاکہ ان کے بحری جہازوں اور عملے کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ یمنی فوج نے تاکید کی کہ اسرائیلی بحری جہازوں، اور مقبوضہ فلسطینی بندرگاہوں کی جانب جانے والے بحری جہازوں، یا پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والی کمپنیوں کے تمام بحری جہازوں کے علاوہ؛ تمام بحری جہازوں کے لئے جہازرانی مکمل طور پر محفوظ ہے جبکہ یہ امر اس وقت تک جاری رہے گا کہ جب تک غزہ کے خلاف جاری انسانیت سوز جارحیت اور اس کا غیر انسانی محاصرہ ختم نہیں ہو جاتا۔
-

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: بحری جہازوں بحری جہاز کمپنی کے

پڑھیں:

جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات

بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ‘ممتا بنرجی’ نے بنگلہ دیش کی انقلابی تحریک کے مرکزی رہنما عثمان ہادی کے قتل کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔

منگل کو ممتا بنر جی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل قتل میں ملوث اصل چہروں سے واقف ہیں، تاہم قومی اور سفارتی اثرات کے باعث وہ فی الحال نام ظاہر نہیں کر رہیں۔

بی جے پی حکومت پر سنگین الزامات

منگل کو وسطی کولکتہ میں ایک بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی وفاقی حکومت پر پہلی بار کھل کر الزامات کی بوچھاڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت عثمان ہادی کے قتل کیس سے متعلق انتہائی حساس معلومات اور شواہد کو عوام سے چھپا رہی ہے۔

میگھالیہ سرحد سے داخلہ اور اسپیشل ٹاسک فورس کی کارروائی

سابق وزیراعلیٰ نے سنسنی خیز تفصیلات بتاتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش کی تنظیم ’انقلاب منچ‘ کے مرکزی کردار عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ملزمان بھارتی ریاست میگھالیہ کی سرحد کے راستے مغربی بنگال میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی مغربی بنگال کی ’اسپیشل ٹاسک فورس‘ (ایس ٹی ایف) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔

امیت شاہ کا فون اور خاموش رہنے کی درخواست

ممتا بنرجی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے فوراً بعد انہیں بھارتی وزیر داخلہ ’امیت شاہ‘ کا فون موصول ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس کے مرکزی ملزمان کا عدالت میں الزامات سے انکار

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’امیت شاہ‘  نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کیس کی تفصیلات اور ملزمان کی شناخت کو عوام کے سامنے نہ لایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست ’قومی مفاد‘ سے جڑا ہوا ہے‘۔

ممتا بنرجی کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے ملک اور خطے کے مفاد میں خاموش تھیں، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں مبینہ سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے بعد اب وہ سچ بولنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔

دوسری جانب نئی دہلی میں وفاقی حکومت کی طرف سے ممتا بنرجی کے ان سنگین الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

مجھے سب کچھ معلوم ہے

اپنے خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ عثمان ہادی کے قتل کا حتمی حکم کس نے دیا تھا؟ انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ وہ سازش کاروں کے ناموں سے اچھی طرح واقف ہیں۔

نام نہ بتانے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ قتل کس نے کروایا اور کن لوگوں کے نام سامنے آئے تھے۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، لیکن مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ اگر میں نے ابھی نام ظاہر کر دیے تو بنگلہ دیش میں شدید سیاسی اثرات اور بھونچال آ سکتا ہے‘۔

مزید پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس: مرکزی ملزم فیصل کے معاون کو بھارت میں گرفتار کر لیا گیا

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے دوران ممتا بنرجی کے اس بیان نے نہ صرف بھارتی سیاست کو گرما دیا ہے، بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین حساس سفارتی تعلقات پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الزامات امیت شاہ بنگلہ دیش ترنمول کانگریس سنگین سیاسی عثمان ہادی۔ مغربی بنگال ممتا بنر جی مودی سرکار

متعلقہ مضامین

  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے