پاک امریکا تجارتی مذاکرات کی تکمیل کیلیے وزیر خزانہ واشنگٹن روانہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
اسلام آباد:
وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب پاک امریکا تجارتی مذاکرات کی تکمیل کے لیے امریکا روانہ ہوگئے ہیں۔
وزارت خزانہ کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے دورہ امریکا کے دوران پاک، امریکا ٹریڈ ڈائیلاگ پر حتمی بات چیت ہوگی۔
تجارتی معاہدے سے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ ہوگا، پاکستان اور امریکا میں مضبوط تجارتی تعلقات اہم ستون ہے، امریکا پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔
اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان دوطرفہ تجارت کو روایتی و غیر روایتی شعبوں تک بڑھانا چاہتا ہے۔ آئی ٹی، معدنیات، زراعت میں شراکت داری کے وسیع مواقع موجود ہیں اور وزیر خزانہ کا دورہ تجارتی تعلقات مضبوط بنانے کی کڑی ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارتی تعلقات میں مزید بہتری کے امکانات روشن ہیں۔
اس سے قبل، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی سربراہی میں پاکستانی وفد نے دورہ واشنگٹن کیا، وزیر خزانہ نے اس دوران امریکی وزیر خزانہ، تجارتی نمائندے یو ایس ٹی آر سے ملاقات کی۔
ملاقاتی اعلامیے کے مطابق پاک امریکا تجارتی تعلقات اور سرمایہ کاری میں فروغ کے عزم کا اعادہ کیا گیا، پاکستانی وفد نے امریکی سیکریٹری کامرس سے بھی ملاقات کی جبکہ وزیر خزانہ کی سربراہی میں امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر سے بھی ملاقات ہوئی، جہاں دونوں نے تجارت اور معاشی تعلقات کو دوطرفہ تعلقات کا اہم ستون قرار دیا ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ امریکا پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، پاکستان روایتی اور غیر روایتی شعبہ جات میں تعاون کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ پاکستان آئی ٹی، معدنیات، زراعت اور دیگر شعبوں کو وسعت دینے کا خواہشمند ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: محمد اورنگزیب تجارتی تعلقات
پڑھیں:
واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک کاغذ سازی کے کارخانے میں کیمیائی ٹینک پھٹنے کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق تمام لاپتا افراد کی لاشیں ملبے سے نکال لی گئی ہیں، جبکہ حادثے کی وجوہات اور ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک صنعتی تنصیب پر کیمیائی ٹینک پھٹنے کے المناک حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 تک پہنچ گئی ہے۔ حکام نے ہفتے کے روز تصدیق کی کہ لاپتا قرار دیے گئے تمام نو افراد کی لاشیں ملبے سے برآمد کر لی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق ابتدائی طور پر حادثے کے فوراً بعد دو ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی تھی، جبکہ دیگر افراد لاپتا ہو گئے تھے۔ امدادی اور بحالی کی ٹیموں نے پورے ہفتے متاثرہ مقام پر سرچ آپریشن جاری رکھا، جس کے دوران عمارت کے اندر ملبے کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ ڈرونز کی مدد سے علاقے کا فضائی جائزہ بھی لیا گیا۔
کاؤلٹز 2 فائر اینڈ ریسکیو کے ڈپٹی چیف کرٹ اسٹیچ نے بتایا کہ امدادی کارکنوں نے انتہائی دشوار حالات میں ملبے کے نیچے پھنسے افراد کی تلاش جاری رکھی اور بالآخر تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد کر لی گئیں۔
حادثہ منگل کے روز لانگ ویو شہر میں واقع نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ (Nippon Dynawave Packaging) کے کارخانے میں پیش آیا، جہاں ’وائٹ لِکر‘ نامی کیمیائی محلول سے بھرا ایک بڑا ٹینک اندرونی دباؤ کے باعث پھٹ گیا تھا۔ یہ محلول سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ اور سوڈیم سلفائیڈ پر مشتمل ہوتا ہے اور کاغذ کے گودے (Paper Pulp) کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق متاثرہ ٹینک میں تقریباً 9 لاکھ گیلن (34 لاکھ لیٹر) کیمیائی محلول موجود تھا۔ بعد ازاں کیے گئے ٹیسٹوں سے یہ بات سامنے آئی کہ کچھ مقدار قریبی دریائے کولمبیا تک پہنچ گئی تھی، تاہم اب تک فضائی معیار یا لانگ ویو شہر کے پینے کے پانی پر کسی منفی اثرات کی نشاندہی نہیں ہوئی۔
نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ جاپان کی دوسری بڑی کاغذ ساز کمپنی Nippon Paper Industries کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی ہے۔ جاپانی کمپنی نے 2016 میں سیئٹل کی لکڑی اور جنگلاتی مصنوعات تیار کرنے والی کمپنی Weyerhaeuser سے لانگ ویو کا یہ پلانٹ 225 ملین ڈالر میں خریدا تھا۔
حکام نے کہا ہے کہ حادثے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ ٹینک کے اندر دھماکے یا انہدام کی اصل وجہ کیا تھی۔ ساتھ ہی ماحولیاتی ماہرین بھی قریبی علاقوں میں ممکنہ آلودگی کے اثرات کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں