امریکا نے چینی دباؤ سے نکلنے کے لیے یانمار کی نایاب معدنیات پر نظریں گاڑھ لیں
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیم کو میانمار میں موجود قیمتی اور نایاب معدنیات (ریئر ارتھ) تک رسائی حاصل کرنے سے متعلق مختلف تجاویز موصول ہوئی ہیں۔
انٹرنیشنل میڈیا کے مطابق یہ تجاویز ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکا کی کوشش ہے کہ وہ ان اہم معدنیات کے لیے چین پر انحصار کم کرے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا کا پاکستان سے معدنیات اور کانکنی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر زور
میانمار دنیا کے چند ایسے ممالک میں شامل ہے جہاں بھاری ریئر ارتھ معدنیات بکثرت پائی جاتی ہیں۔ ان کی صنعتی اہمیت بہت زیادہ ہے اور چین ان کا سب سے بڑا خریدار اور پروسیسر ہے۔
امریکی مفاد کو مدِنظر رکھتے ہوئے مختلف سابق حکومتی مشیران، کاروباری لابسٹ اور تجزیہ کاروں نے ٹرمپ ٹیم کو تین بڑی تجاویز پیش کی ہیں۔
پہلی تجویز یہ ہے کہ امریکا، میانمار کی فوجی حکومت (جنتا) کے ساتھ براہ راست مذاکرات کرے اور ساتھ ہی کاچن انڈیپنڈنس آرمی (KIA) کے ساتھ امن معاہدہ طے کرے تاکہ وہ علاقہ جہاں یہ معدنیات پائی جاتی ہیں، محفوظ رسائی میں آ سکے۔
دوسری تجویز کے مطابق امریکا براہ راست KIA سے رابطہ کرے، جو چین کے خلاف بداعتمادی کا اظہار کر چکی ہے اور امریکی تعاون کی خواہاں ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا اور یوکرین کے درمیان معدنیات کے معاہدے پر دستخط
تیسری تجویز یہ ہے کہ امریکا کواڈ اتحاد، خصوصاً بھارت کے ساتھ مل کر پروسیسنگ یونٹس اور سپلائی چین تیار کرے تاکہ چین کے اثر و رسوخ کو کم کیا جا سکے۔
ان تجاویز پر حتمی فیصلہ نہیں ہوا تاہم ان میں کچھ قانونی اور سفارتی چیلنجز بھی شامل ہیں۔ خاص طور پر چین کی ممکنہ مزاحمت اور KIA کے زیرِ قبضہ پہاڑی علاقوں تک رسائی میں درپیش رکاوٹیں، ان تجاویز کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہیں۔
مزید یہ کہ امریکی پالیسی سازوں کو پابندیوں میں نرمی، سفارتی ایلچی کی تعیناتی اور ممکنہ تجارتی مراعات جیسے نکات پر بھی غور کرنا ہوگا۔
ماہرین کے مطابق اگر ان تجاویز پر پیشرفت ہوتی ہے تو امریکا چین کے ریئر ارتھ مارکیٹ پر غلبے کو چیلنج کرنے کے قابل ہو سکتا ہے، تاہم اس عمل سے جنوب مشرقی ایشیا میں نئی جیوپولیٹیکل پیچیدگیاں جنم لے سکتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ریکوڈک منصوبہ: معیشت، معدنیات اور سرمایہ کاری کا نیا دور
یہ پیش رفت اس بڑی عالمی دوڑ کا حصہ ہے جہاں اہم صنعتی اور تکنیکی شعبوں کے لیے درکار معدنی وسائل پر کنٹرول حاصل کرنا عالمی طاقتوں کا نیا میدانِ جنگ بن چکا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا بھارت ٹرمپ ٹیم چین میانمار نایاب معدنیات.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکا بھارت ٹرمپ ٹیم چین میانمار نایاب معدنیات کے لیے
پڑھیں:
حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔