پاکستان امریکا کے ساتھ بھی مضبوط ترین تعلقات چاہتا ہے: اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
فائل فوٹو
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان امریکا کے ساتھ بھی مضبوط ترین تعلقات چاہتا ہے، ان تعلقات کو چین کے ساتھ پاکستان کی برادرانہ پارٹنرشپ کے لینس سے نہ دیکھا جائے۔
نیویارک میں پاکستانی امریکی کمیونٹی سے گفتگو کرتے ہوئے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومت نے پچھلی امریکی انتظامیہ پر بھی واضح کیا لیکن انہوں نے پاکستان سے رابطے نہیں کیے، موجودہ امریکی انتظامیہ پاکستان سے بات چیت کر رہی ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ 9 سال بعد پاکستان اور امریکا کے وزرائے خارجہ کی ملاقات ہوئی ہے، مارکو روبیو سے علاقائی اور عالمی امور پر بات ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان امن پسند ملک اور پُرامن بقائے باہمی پر یقین رکھتا ہے، بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا، ہم افغانستان کے خیر خواہ ہیں، ان کی ترقی و خوش حالی چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے رافیل طیارے گرا کر بھارت کے غرور کو خاک میں ملادیا، پہلگام واقعے کی آڑ میں بھارت نے جو اقدامات کیے ہم نے بھی ویسے ہی جواب دیا، سندھ طاس معاہدے کی معطلی پر ہم نے بھارت کیلئے اپنی فضائی حدود بند کی۔
اس حوالے سے امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو نے پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پہلگام واقعے پر بھارت کو عالمی تحقیقات کی پیش کش کی، ہم نے بھارتی پروپیگنڈےکو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا، بھارت کی بوکھلاہٹ ابھی تک ختم نہیں ہوئی۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ حکومتی کوششوں کی بدولت معیشت میں نمایاں بہتری آئی، ہم نےملک کو ڈیفالٹ سے بچایا، بیرون ملک مقیم پاکستانی ملک کا سرمایہ ہیں۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ جی ڈی پی گروتھ میں نمایاں بہتری آئی ہے، تمام عالمی مالیاتی ادارے پاکستان کی معاشی بہتری کے معترف ہیں، زرمبادلہ کے ذخائر میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، ملک میں معاشی استحکام آچکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت مزید چھ ماہ رہتی تو ملک ڈیفالٹ کرچکا ہوتا، تحریک عدم اعتماد ایک مشکل فیصلہ تھا جو ہم نے ملک کی خاطر کیا تھا۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اس ماہ کیلئے سلامتی کونسل کی صدارت کے لیے منتخب ہوا، وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان سفارتی سطح پر بھی کامیابیاں سمیٹ رہا ہے، پاکستان دنیا میں تنازعات کا پُرامن حل چاہتا ہے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ کوئی غلط فہمی میں نہ رہے، عافیہ صدیقی پاکستان کی بیٹی ہے، عافیہ صدیقی کی رہائی کیلئے سر توڑ کوششیں کیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار نے کہا کہ کہ پاکستان انہوں نے
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔