دنیا کے تیز ترین مکے باز نے 3 عالمی ریکارڈ قائم کر دیے
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
مارشل آرٹس کو بچپن کے بدمعاشوں سے بچنے کے لیے سیکھنے والا نوجوان آج دنیا کا تیز ترین پنچ مارنے والا انسان بن چکا ہے۔ 23 سالہ جوشوا لیالا نے 3 گنیز ورلڈ ریکارڈز قائم کرکے عالمی سطح پر اپنا لوہا منوا لیا ہے۔
جوشوا نے 7 سال کی عمر میں خود پر ہونے والے اسکول کے ظلم و ستم سے بچنے کے لیے تائیکوانڈو سیکھنا شروع کیا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس نے نہ صرف خود اعتمادی حاصل کی بلکہ مارشل آرٹس کو بطور کیریئر اپنایا۔ آج وہ اپنی مکسڈ مارشل آرٹس کمپنی بنانے کے ساتھ ساتھ انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر 9 لاکھ 82 ہزار فالوورز کے ساتھ ایک ابھرتے ہوئے سوشل میڈیا اسٹار بھی ہیں۔
عالمی ریکارڈز کی تفصیل:
01: بغیر دستانے کے مکمل پنچز (60 سیکنڈ میں 453 پنچز)
02: دستانے پہن کر مکمل پنچز(60 سیکنڈ میں 374 پنچز)
03: ڈمبلز کے ساتھ مکمل پنچز(60 سیکنڈ میں 333 پنچز)
مزید پڑھیں: گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز: بوبی سے معمر ترین کتے کا ٹائٹل کیوں چھینا جا رہا ہے؟
جوشوا کا کہنا ہے کہ 2021 میں اس نے سوشل میڈیا پر باقاعدگی سے مواد پوسٹ کرنا شروع کیا، جس نے چند ہی ہفتوں میں 2 ہزار سے 2 لاکھ ویوز حاصل کیے اور یوں وہ 3 مختلف نوکریاں کرتے ہوئے اپنی پہچان بنانے میں کامیاب ہو گیا۔
اب جوشوا نہ صرف ایک ریکارڈ ہولڈر فائٹر ہے بلکہ نئی نسل کے لیے ایک متاثرکن شخصیت بھی بن چکا ہے جو یہ پیغام دے رہا ہے کہ مشکلات کا سامنا ہمت اور محنت سے ہی کیا جا سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جوشوا لیالا دنیا کا تیز ترین پنچ مارنے والا انسان گنیز ورلڈ ریکارڈز مارشل آرٹس.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: دنیا کا تیز ترین پنچ مارنے والا انسان گنیز ورلڈ ریکارڈز کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
واشنگٹن:امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
https://t.co/Wtbk84dEsc
— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔