سکیورٹی خدشات، گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کےنمبرز کے حوالے سے بڑا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
نئے قواعد کے مطابق گاڑی ٹرانسفر کروانے کی صورت میں نمبر پلیٹ اتار کر پرانا مالک اپنے پاس رکھے گا جبکہ خریدار کو نیا نمبر الاٹ ہوگا یا پہلے سے موجود نمبر پلیٹ خریدار اپنی گاڑی پر آویزاں کر سکے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایکسائز حکام نے گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کے نمبرز کے حوالے سے بڑا فیصلہ کر لیا۔ اب گاڑی کو نمبر جاری نہیں ہوگا بلکہ مالک کے نام پر نمبر جاری ہوں گے۔ ایکسائز حکام کا کہنا ہے پنجاب میں جتنی گاڑیاں یا موٹرسائیکلیں رجسٹرڈ ہوں گی، مالکان کے نام پر رجسٹرڈ ہوں گی۔ نئے قواعد کے مطابق گاڑی ٹرانسفر کروانے کی صورت میں نمبر پلیٹ اتار کر پرانا مالک اپنے پاس رکھے گا جبکہ خریدار کو نیا نمبر الاٹ ہوگا یا پہلے سے موجود نمبر پلیٹ خریدار اپنی گاڑی پر آویزاں کر سکے گا۔
نمبر پلیٹس ہولڈرز مرضی سے پرانا نمبر سرنڈر کرکے نیا نمبر نئی گاڑی کیلئے خرید سکیں گے۔ نمبر پلیٹس کیٹگریز کے مطابق موٹر سائیکل اور گاڑی کو آویزاں کیا جا سکے گا۔ پرانی نمبر پلیٹس آویزاں کرنے پر500 سے 8 ہزار تک اضافی فیس ادا کرنا ہوگی۔ ایکسائز حکام کا کہنا ہے کہ نئے نظام بارے قوانین میں ترامیم و رولز بنا کر سمری حکوت کو بھجوا دی گئی ہے۔ اگلے ماہ کے پہلے ہفتے سے نئے نظام پر عملدرآمد شروع کر دیا جائے گا۔ سکیورٹی ایشوز سے نمبرز کو گاڑی کی بجائے مالکان پر منتقل کیا جا رہا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نمبر پلیٹ
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک