وزیر اعظم شہباز شریف نے یورپی طرز کی جدید پاک بزنس ایکسپریس ٹرین کا افتتاح کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے جدید سہولیات سے آراستہ پاک بزنس ٹرین کا لاہور اسٹیشن پر افتتاح کردیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم نے لاہور کے ریلوے اسٹیشن پر پاک بزنس ایکسپریس ٹرین کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، اور ریلوے حکام بھی موجود تھے۔
افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے پاکستان ریلوے میں "مثبت تبدیلی" پر خوشی کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ آج مدتوں بعد مجھے لاہور ریلوے اسٹیشن آ کر بہت مسرت ہوئی اور یہاں خوشگوار تبدیلی دیکھنے کو ملی۔
وزیر اعظم نے مزید بتایا کہ پاک بزنس ٹرین میں صرف اشرافیہ کے لیے نہیں بلکہ عام آدمی کے لیے بھی یورپی ریلوے کی طرز پر شاندار سفری سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔
شہباز شریف نے نئے ڈیجیٹائز ٹکٹنگ سسٹم کے تعارف، مسافر لاؤنجز، استقبالیہ ڈیسک اور ٹرین میں مسافروں کے لیے یورپ کی طرز پر شاندار انتظامات کو سراہا۔
وزیر اعظم نے ریلوے کے نظام کو بہتر بنانے اور اسے دوبارہ پاؤں پر کھڑا کرنے پر وزیر ریلوے حنیف عباسی کو مبارکباد پیش کی۔
انہوں نے کہا کہ "حنیف عباسی نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا اور میرا مان بڑھایا، ریلوے کی بہتری کے حوالے سے آج میرا خواب شرمندہ تعبیر ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے۔"
وزیر اعظم نے اس بات پر زور دیا کہ یہ ابھی پہلا قدم ہے اور ابھی بہت سی منزلیں باقی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے دیگر شہروں میں بھی اسی طرح کی ٹرینیں چلائی جائیں گی۔
انہوں نے خواجہ سعد رفیق کی خدمات کو بھی سراہا اور کہا کہ پی ڈی ایم دور میں انہوں نے بھی ریلوے کو بہتر انداز میں چلانے کی کوشش کی۔
قبل ازیں، وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے مسافر لاؤنج، استقبالیہ سمیت لاہور ریلوے اسٹیشن کے مختلف شعبہ جات کا دورہ کیا اور انتظامات کو سراہا۔ بعد ازاں انہوں نے پاک بزنس ایکسپریس ٹرین کا باقاعدہ افتتاح کیا اور ٹرین کوچز کا معائنہ کیا۔
اس موقع پر وفاقی وزیر ریلوے نے وزیر اعظم کو بریفنگ دی اور بتایا کہ پاک بزنس ٹرین لاہور سے کراچی کے درمیان چلے گی اور لاہور سے کراچی کا سفر تقریباً 18.
---
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شہباز شریف نے انہوں نے پاک بزنس ٹرین کا کہا کہ
پڑھیں:
یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
یورپی یونین نے سرچ انجن کے شعبے میں مبینہ اجارہ داری کا غلط استعمال کرنے پر گوگل کے خلاف بڑا اقدام کرتے ہوئے کمپنی پر 89 کروڑ یورو (تقریباً ایک ارب امریکی ڈالر)کا جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ یورپی کمیشن کا کہنا ہے کہ گوگل نے اپنی بالادست پوزیشن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حریف کمپنیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اختیار کیا اور اپنی مختلف سروسز کو ناجائز برتری فراہم کی۔
یورپی کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گوگل نے سرچ انجن میں اپنی مضبوط پوزیشن استعمال کرتے ہوئے شاپنگ، ٹریول، گیمز اور دیگر سروسز کو سرچ نتائج میں نمایاں جگہ دی، جبکہ حریف کمپنیوں کی سروسز کو نیچے دکھایا گیا، جس سے منصفانہ مسابقت متاثر ہوئی۔
کمیشن نے کہا کہ یہ طرزِ عمل ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ (Digital Markets Act) کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو اپنی سروسز کے حق میں امتیازی یا جانبدارانہ رویہ اختیار کرنے کی اجازت نہیں۔
یورپی کمیشن نے گوگل پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ کمپنی نے گوگل پلے اسٹور پر ایپ ڈویلپرز کو صارفین کو متبادل ادائیگی کے طریقوں سے آگاہ کرنے سے روکا، تاکہ گوگل کی سروس فیس برقرار رہے۔ کمیشن کے مطابق یہ عمل بھی ڈیجیٹل مارکیٹس ایکٹ کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی اجارہ داری کو روکنا ہے۔
کمیشن نے گوگل کو ہدایت کی ہے کہ وہ 60 دن کے اندر فیصلے پر عملدرآمد کرے، بصورت دیگر کمپنی کو مزید جرمانوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب گوگل نے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یورپی کمیشن کے اس اقدام سے یورپی صارفین اور کاروباری اداروں کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ یورپی یونین نے گوگل کے خلاف کارروائی کی ہو۔ 2018 میں اینڈرائیڈ آپریٹنگ سسٹم میں اجارہ داری کے الزام پر گوگل پر 4.7 ارب ڈالر کا جرمانہ عائد کیا گیا تھا، جبکہ 2017 میں سرچ انجن کے شعبے میں مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پر کمپنی کو 2.8 ارب ڈالر جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ بعد ازاں ان مقدمات میں گوگل کی اپیلیں بھی مسترد کر دی گئی تھیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ تازہ کارروائی سے یورپی یونین اور امریکا کے درمیان تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، کیونکہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل یورپی یونین کی بعض تجارتی اور ڈیجیٹل پالیسیوں پر تحفظات کا اظہار کر چکی ہے۔