ہماری حکومت گرانے کی ان کی اوقات ہے، نہ حیثیت(علی امین گنڈاپور)
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
میں ان کو بار بار چیلنج کر رہا ہوں یہ سیاسی اور جمہوری طریقوں سے ہماری حکومت نہیں گراسکتے، وزیر اعلی خیبرپختونخوا
اس ملک میں قانون حرکت میں نہیں ہے، جو حالات ہیں اس کی جنگ بانی پی ٹی آئی لڑ رہے ہیں،میڈیا سے بات چیت
وزیر اعلی خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ سیاسی طریقوں سے یہ ہماری حکومت نہیں گرا سکتے، جمہوری طریقے سے ہماری حکومت گرانے کی ان کی اوقات ہے نہ حیثیت۔اسلام آباد ڈسٹرکٹ کورٹس پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ اس ملک میں قانون حرکت میں نہیں ہے، جو حالات ہیں اس کی جنگ بانی پی ٹی آئی لڑ رہے ہیں، یہ جھوٹے اور من گھڑت کیسز بہت پہلے سے چل رہے تھے۔علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ہم ہمیشہ سے اپنے آپ کو قانون کے سامنے پیش کرتے ہیں، اس طرح کی پیشیوں سے ہم گھبرانے والے نہیں ہیں، پانچ اگست کو ہر ضلعے ہر حلقے سے عوام نکلے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ میرے خلاف یہ کیس 2016 سے چل رہا ہے، میرے خلاف جو کیس بنایا گیا ہے اس کیس میں کچھ بھی نہیں ہے، میرے اوپر اسلحہ اور بوتلیں ڈالی گئی ہیں، جب یہ کیس بنایا گیا میں نہ ہی وہاں موجود تھا نہ ہی وہ گاڑی میری تھی۔علی امین گنڈاپور نے کہا کہ یہ کیسز کو لٹکاتے ہیں، ہماری جنگ حق کی ہے یہ جنگ ہم ہی جیتیں گے، میں اپنے صوبے میں اس احتجاج کو لیڈ کروں گا۔انہوں نے کہا میں ان کو بار بار چیلنج کر رہا ہوں کہ یہ سیاسی اور جمہوری طریقوں سے ہماری حکومت نہیں گراسکتے، حکومت گرانے کی ان کی اوقات ہے نہ حیثیت، ہاں غیر قانونی طریقوں سے تو تم نے پورا پاکستان ٹیک اوور کیا ہوا ہے، وہ کرتے رہو آپ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: علی امین گنڈاپور ہماری حکومت نے کہا
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔