والدین بچوں کے لیے مشعلِ راہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
والدین کی حیثیت سے ہم سب چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے جیسے جیسے بڑے ہوں، وہ ہمیں عزت دیں اور ہمیں پسند بھی کریں، بالخصوص اس وقت جب ہم بڑھاپے کی دہلیز پر قدم رکھ رہے ہوں۔ اب عزت تو وہ چیز نہیں ہے، جو خود بخود پیدا ہو جائے۔ یہ سب کچھ اس بات پر منحصر ہے کہ ہم ان کے ساتھ کس طرح کا برتاؤ کرتے ہیں اور ہم اپنے رویّوں سے انھیں کیا کچھ سکھاتے ہیں۔
ہم سب سے کچھ غلطیاں ہو جاتی ہیں، یعنی ہم کچھ ایسے رویّے اپنا رہے ہوتے ہیں، جو اگر درست نہ کیے جائیں، تو ہمارے بچوں کی ذہنی کیفیت بری طرح مجروح ہو سکتی ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں یہ سیکھا ہے کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ آپ کی عزت کرے، جیسے جیسے وہ بڑا ہو، تو کچھ رویے اور عادات جو آپ کے لیے معمولی ہو سکتے ہیں انھیں مستقل چھوڑ دیں، کیوں کہ وہ نہ صرف آپ کے مستقبل کے لیے خطرناک ہو سکتی ہیں، بلکہ آپ کے بچوں کے آنے والے کل کے لیے تاریکیاں لا سکتی ہیں۔
یہ سوچ بہت غلط ہے کہ جابرانہ اور سخت ماحول پیدا کر کے آپ اپنے بچوں کی اچھی تربیت کر سکتے ہیں، تو سمجھ لیجیے کہ آپ کا پہلا قدم ہی غلط ہے۔ کچھ گھرانوں میں یہی سوچ گردش کرتی ہے کہ بچوں کے لیے سختی اور آمرانہ رویہ ہونا ہی بچے سے عزت حاصل کرنے کی بنیادی کلید ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ صرف حکم دینے سے بچے آپ کی عزت دیں گے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ عزت ایک دو طرفہ معاملہ ہے۔ یہ طاقت یا اپنے کنٹرول کو مسلط کرنے کے بارے میں نہیں ہے۔
درحقیقت، زیادہ آمرانہ رویہ اپنانا اکثر عزت کے برعکس نتیجہ دیتا ہے۔ یہ خوف، ناراضی اور کھلی بات چیت کی کمی کا باعث بن سکتا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے ہمیں عزت دیں، جیسے وہ بڑے ہوں، تو ہمیں انھیں یہ دکھانا ہوگا کہ ہم ان کے خیالات، احساسات اور انتخاب کی عزت کرتے ہیں۔ یہ راہ نمائی اور مشورے دینے کے بارے میں ہے، حکم دینے کے بہ جائے ایک ایسا ماحول فراہم کرنا، جہاں بچہ خود کو اظہار خیال کرنے اور اپنے فیصلے کرنے میں محفوظ محسوس کرے۔ بچہ یہ سوچے کہ میرے والدین میری رائے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ آپ انھیں پیار، محبت اور شفقت سے رائے بدلنے پر قائل کر سکتے ہیں، بلکہ اکثر ایسا بہ آسانی ہو جاتا ہے۔
ہم سب غلطیاں کرتے ہیں، یہ انسان ہونے کا تقاضا بھی ہے، لیکن بطور والدین اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنا کبھی کبھار ایک چیلنج بن سکتا ہے۔ بچے غلطی کریں، تو ہم اسی وقت انھیں کہتے ہیں کہ آپ فوری معذرت کیجیے۔ تو کیا ہم کوئی غلطی نہیں کر سکتے اور پھر اپنی غلطی کو چھپانے کے لیے انھی پر الزام لگا دیتے ہیں، یہ ہمارا بہت غلط رویہ ہے، حالاں کہ بچے جانتے ہیں کہ آپ غلطی پر ہیں تو کوئی بات نہیں۔
آپ ایک بار ان کے سامنے اعتراف تو کر کے دیکھیے کہ ان کے دل میں آپ کی کتنی عزت بڑھ جائے گی۔ میرے ساتھ اکثر ایسا ہوا کہ میرے بیٹے نے وہ چیز دوسری جگہ پر نہیں رکھی ہوتی، بلکہ خود میں نے ہی اس کی جگہ بدل دی ہوتی ہے اور پھر بیٹے کو ڈانٹ دیتی ہوں کہ آپ ہی نے کہیں اور رکھی ہوگی۔ ہمیں ہرگز ایسا نہیں کرنا چاہیے، بطور والدین ہم یہ معمولی باتیں سمجھ کر انھیں چھوڑ دیتے ہیں، بلکہ یہی تو وہ پہلو ہیں، جنھیں ہم اپنے بچوں کی تربیت میں استعمال کر رہے ہیں۔
اس دن، میں نے یہ قیمتی سبق سیکھا کہ اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنا آپ کو کمزور یا کم بااختیار نہیں بناتا۔ حقیقت میں، یہ اس کے برعکس ہے یہ آپ کے بچے کو یہ سکھاتا ہے کہ غلطیاں کرنا ٹھیک ہے بشرطے کہ آپ ان کی ذمہ داری لیں۔ اس سے وہ عاجزی اور انکساری سیکھیں گے اور پھر اُسے اپنی زندگی میں استعمال کریں گے!
تیز رفتار زندگی میں، کبھی کبھی یہ آسان ہوتا ہے کہ ہم اپنے بچوں کے جذبات اور خیالات کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ ہم ان کی پریشانیوں کو اپنی ’بڑی‘ پریشانیوں کے مقابلے میں معمولی سمجھ لیتے ہیں۔ تاہم، یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ ان کے لیے، ان کے مسائل اتنے ہی حقیقی اور پریشان کُن ہیں جتنے ہمارے ہیں۔ بچوں کے دماغ مکمل طور پر نشوونما نہیں پاتے، جب تک کہ ان کی عمر بیس کی دہائی کے اوائل میں نہ ہو۔ اس کا مطلب ہے کہ وہ ہمیشہ مضبوط جذبات کو سنبھالنے کے قابل نہیں ہوتے اور انھیں ہماری راہ نمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ہم ان کے جذبات کو مسترد کر دیتے ہیں، تو ہم انھیں یہ پیغام دیتے ہیں کہ ان کے جذبات اہم نہیں ہیں۔ جب ہم اپنے بچوں کے جذبات کی تصدیق کرتے ہیں، تو ہم انھیں یہ سکھاتے ہیں کہ ہم ان کے جذبات کو سمجھتے ہیں اور ان کے جذبات ہمارے لیے اہم ہیں۔
جب آپ اپنے بچے سے کوئی وعدہ کرتے ہیں اور اسے پورا کرتے ہیں، تو آپ انھیں دکھا رہے ہیں کہ وہ آپ پر اعتماد کر سکتے ہیں اور آپ کے الفاظ کی ان کی زندگی میں بہت اہمیت اور قدر ہے، لیکن جب ہم ان وعدوں کو توڑ دیتے ہیں، تو کیا ہوتا ہے؟
ہر بار جب وعدہ توڑتے ہیں، تو یہ ہمارے بچوں کے اعتماد کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اعتماد کے بغیر عزت حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔ اپنے الفاظ کو پورا کرنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا، لیکن یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ یہ وعدے ہمارے بچوں کے لیے بہت اہم ہیں۔ اگر آپ کسی وجہ سے وعدہ پورا نہیں کر سکتے، تو اس کی وضاحت کریں، دل سے معذرت کریں اور اگر ممکن ہو تو اس کے نعم البدل کی کوشش کریں۔
والدین بننے کے دوران، ہم اپنے بچوں کی دیکھ بھال میں اتنے مصروف ہو جاتے ہیں کہ خود اپنی دیکھ بھال کرنا بھول جاتے ہیں۔ ہم اپنا خیال نہیں رکھ پاتے، لیکن میں نے سیکھا ہے کہ اپنی دیکھ بھال کو نظر انداز کرنا بالکل بھی اچھا نہیں ہے۔ اس سے ایک تو تھکاوٹ اور دوسرا چڑچڑاپن پیدا ہو جاتا ہے اور یہ بلاشبہ ہمارے بچوں کے ساتھ تعلقات پر اثر ڈالتا ہے۔ بچے سیکھتے ہیں، جو کچھ وہ دیکھتے ہیں۔ جب وہ ہمیں ہماری ذہنی اور جسمانی صحت کی دیکھ بھال کرتے ہوئے دیکھتے ہیں، تو وہ خود کی عزت کرنے کا مطلب سیکھتے ہیں۔
غصہ یا مایوسی کے تحت ردعمل دینا آسان ہوتا ہے، لیکن ہم اپنے بچوں کی غلطیوں پر کیسے ردعمل دیتے ہیں یہ ان کی عزت پر بہت اثر ڈال سکتا ہے۔ بچے ابھی سیکھ رہے ہیں اور وہ غلطیاں کرتے ہیں، جب وہ ایسا کرتے ہیں، تو وہ ہماری راہ نمائی اور حمایت کی تلاش میں رہتے ہیں۔ اگر ہم غصے یا مایوسی سے ردعمل دیتے ہیں، تو ہم انھیں یہ پیغام دیتے ہیں کہ غلطیاں بری ہوتی ہیں اور انھیں ہر قیمت پر غلطیوں بچنا چاہیے۔ اس کے برعکس، پرسکون ردعمل دینے سے ہم انھیں سکھاتے ہیں کہ غلطیوں سے بہت کچھ سیکھنے کے لیے ملتا ہے۔
ہم نے جو رویے یہاں پر بیان کیے ہیں، وہ کوئی فوری حل نہیں ہیں۔ ان کو وقت، صبر اور مستقل کوشش کی ضرورت ہے، لیکن اس کا نتیجہ فائدہ مند ہی ہوگا۔ بس یہ یاد رکھیں کہ ہر بچہ منفرد ہوتا ہے، لیکن ایک عالمی حقیقت یہ ہے کہ بچے وہ سیکھتے ہیں، جو وہ دیکھتے ہیں۔ ہم جو رویے ان کے لیے نمونہ بناتے ہیں، وہ اسی نقش قدم پر چل کر زندگی کا سفر طے کرتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ہم اپنے بچوں اپنے بچوں کی ان کے جذبات ہمارے بچوں دیکھ بھال زندگی میں ہم انھیں سکتے ہیں انھیں یہ دیتے ہیں کرتے ہیں ہیں کہ ا ہم ان کے کر سکتے سکتا ہے ہیں اور بچوں کے ہوتا ہے ہے کہ ا کے لیے اور ان کی عزت
پڑھیں:
تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری۔فوٹو: فائلوزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ ہوئے، ورلڈ سمٹ آن دی انفارمیشن سوسائٹی (ڈبلیو ایس آئی ایس) میں دو منصوبوں کی شارٹ لسٹنگ کے ساتھ دنیا کا واحد ملک بن گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اقوامِ متحدہ ڈبلیو ایس آئی ایس پرائز 2026 میں پنجاب کا ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی میرا پیارا عالمی چیمپئن پروجیکٹ قرار پایا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی ’’میرا پیارا‘‘ پروجیکٹ دنیا کے ٹاپ فائیو میں شامل ہوگیا۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت کا ورچوئل ویمن پولیس اسٹیشن بھی دنیا بھر کے ٹاپ 20 پروجیکٹس میں شارٹ لسٹ ہوگیا، ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کی بدولت 77 ہزار سے زائد گمشدہ بچے بازیاب، ماؤں کی گودیں ہری ہو گئیں، حکومت نے 3 ہزار اسپیشل (معذور) بچوں کو بھی تلاش کر کے خاندانوں سے ملوایا، بدسلوکی، آن لائن استحصال اور کمزور بچوں کے تحفظ کے ہزاروں کیسز حل کیے گئے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں اب تک مختلف کیٹیگریز کے 1,45,772 کیسز رپورٹ، 1,36,157 کیسز کو کامیابی سے حل کیا گیا، رپورٹ ہونے والے مقدمات میں سے 26,274 ایف آئی آرز رجسٹرڈ،7,081 چالان عدالتوں میں جمع کروا دیے گئے۔
صوبائی وزیر نے مزید بتایا کہ گمشدہ اور اغوا ہونے والے 54,741 بچوں میں سے 53,811 بچوں کو کامیابی سے تلاش کر کے اہلخانہ سے ملا دیا گیا، ریسکیو ٹیموں کی کارروائی کے نتیجے میں 22,989 بچے ملے، 21,178 کو خاندانوں کے سپرد کیا گیا، اس وقت سسٹم میں 930 بچے لاپتہ اور 1,811 بچے تاحال غیر شناخت شدہ ہیں۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ بچوں پر تشدد اور ابیوز کے 15,447 کیسز رپورٹ ہوئے، 5,075 ایف آئی آرز درج کی گئیں، چائلڈ ابیوز کیسز میں 3,830 ملزمان کو گرفتار کر کے 4,168 مقدمات کے چالان عدالتوں میں جمع کروائے جا چکے ہیں، بچوں کے خلاف آن لائن اور ڈیجیٹل ابیوز کے 191 کیسز سامنے آئے، 14 ایف آئی آرز درج اور 5 ملزمان کو گرفتار کیا گیا۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خصوصی افراد کے مجموعی طور پر 4,377 کیسز رپورٹ ہوئے، 2,984 افراد کو بازیاب کروا کے خاندانوں سے ملایا گیا، خصوصی افراد کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے پولیس نے اب تک 646 ایف آئی آرز درج کیں، چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں 251 اور دارالامان میں 14 متاثرہ افراد کو فوری پناہ اور حکومتی سرپرستی فراہم کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے میرا پیارا یو این گلوبل چیمپئن قرار دیے جانے پر اظہار تشکر کیا۔