لاہور: راہ گیر خواتین کو جنسی ہراساں کرنے والا ملزم ویڈیو سامنے آنے پر گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 30th, July 2025 GMT
لاہور:
لاہور میں گلی محلوں سے گزرنے والی خواتین کو جنسی ہراساں کرنے والے ملزم کو فوٹیج سامنے آنے پر پولیس نے گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خواتین کو ہراساں کرنے والے ایک ملزم کی سی سی ٹی وی ویڈیو سامنے آئی ہے جو گلی محلوں میں آنے جانے والی خواتین کے ساتھ غیر اخلاقی حرکت کرنے میں ملوث ہے۔
ویڈیو منظرعام پر آنے پر پولیس حرکت میں آئی اور ملت پارک تھانہ پولیس نے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ پولیس کے مطابق ملزم والٹن روڈ کا رہائشی ہے جسے نیازی اڈے سے گرفتار کیا گیا، ملزم کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی۔
ایس ایچ او ملت پارک سہیل لیاقت گوندل کے مطابق ملزم پہلے بھی اسی علاقے میں لڑکیوں کے ساتھ غیر اخلاقی حرکات کر چکا ہے۔ اسی حوالے سے ایس پی اقبال ٹاؤن ڈویژن ڈاکٹر محمد عمر نے کہا ہے کہ ملزم کے خلاف مضبوط چالان مرتب کرکے قرار واقعی سزا دلوائی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔
اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔
فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔
مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔
اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔
ادارت: مقبول ملک