علیزہ شاہ کا ساتھی اداکارہ منسا پر ایک ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
اداکارہ علیزہ شاہ اور منسا کے درمیان حال ہی میں ہونے والے ایک تنازع نے قانونی جنگ کی سی صورت اختیار کرلی ہے۔
اداکارہ علیزہ شاہ نے مومنہ مقصود المعرف منساء ملک کو ایک ارب روپے ہرجانہ کا لیگل نوٹس بیرسٹر علی طاہر کی معرفت بھیجا ہے۔
لیگل نوٹس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ منسا ملک ایک ہفتے کے اندر علیزہ شاہ سے اعلانیہ معافی مانگیں اور سوشل میڈیا پر ان کے خلاف پھیلایا گیا مواد فوری ہٹا دیں۔
قانونی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ کے خلاف ایف آئی اے سے بھی رجوع کیا جا سکتا ہے۔
لیگل نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مومنہ مقصود نے علیزہ شاہ کے خلاف ہتک آمیز توہین آمیز رویہ اختیار کیا۔
لیگل نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اداکارہ مومنہ مقصود نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر علیزہ شاہ کے خلاف ہتک آمیز الفاظ کے استعمال کا اعتراف بھی کیا ہے۔
قانونی نوٹس میں کہا گیا ہے کہ منسا ملک نے جعلی ویڈیوز کے ذریعے علیزہ شاہ کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔
مومنہ مقصود کیخلاف ایف آئی اے سے بھی رجوع کیا جائے گا۔ مومنہ مقصود ایک ہفتے میں علیزے شاہ سے معافی مانگیں۔ مومنہ مقصود کیخلاف ایک کروڑ روپے ہرجانے کا ہتک عزت کا دعوا دائر کیا جائے گا۔
علیزہ اور منسا کا جھڑا کیا ہے ؟
ماضی میں علیزہ شاہ اور منسا ملک کے درمیان ڈرامہ سیٹ پر جھگڑا ہوا تھا جس میں مبینہ طور پر منسا نے علیزہ کو دھکا دیا اور تھپڑ مارا تھا۔
جس کا جواب علیزہ شاہ نے اپنی چپل منسا ملک کی طرف پھینک کر دیا تھا تاہم چپل منسا کو لگی نہیں تھی۔
اس واقعے کو حال ہی میں طول اس وقت ملا جب علیزہ شاہ نے دعویٰ کیا کہ انھیں انجان نمبرز سے جان سے مارنے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔
علیزہ شاہ نے کہا کہ ایسا منسا ملک کرا رہی ہیں کیوں کہ وہ مجھے قتل کی دھمکی دے چکی ہیں۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: لیگل نوٹس علیزہ شاہ گیا ہے کہ نوٹس میں منسا ملک کے خلاف شاہ نے
پڑھیں:
ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز سے متعلق نظرثانی درخواست پر وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے معاونت طلب کر لی، جبکہ مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماریہ شہباز کم عمر تھی اور اسے ورغلا کر مذہب تبدیل کروایا گیا، جبکہ عدالت نے اپنے سابق فیصلے میں کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ سابق عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق شادی کے لیے 18 سال عمر کی حد مقرر ہے اور قانون کے خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی پر سزا کا ذکر تو موجود ہے، تاہم نکاح کو خودکار طور پر منسوخ قرار دینے کی کوئی شق موجود نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کم عمری میں شادی ہو جائے تو قانون اس صورت حال کا کیا حل فراہم کرتا ہے۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ماریہ شہباز نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے لے کر وفاقی آئینی عدالت تک کسی بھی مرحلے پر یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی تھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر درخواست گزار اس مؤقف پر اصرار کرتا ہے تو عدالت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی معاونت حاصل کر لیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی کیخلاف گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس
عدالت نے سماعت کے دوران وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کو والد کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ تنسیخ نکاح کے لیے متعلقہ فریق سول کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ حبسِ بے جا اور حوالگی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نکاح کی تنسیخ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چائلڈ میرج قبول اسلام ماریہ شہباز وفاقی آئینی عدالت