سیاحت اورکلچرکا فروغ، پاکستانی بائیکرزکا گروپ لاہور سے وسطی ایشیائی ممالک کے سفر پر روانہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
لاہور:
ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن آف پنجاب(ٹی ڈی سی پی )کی جانب سے پاکستانی نامور بائیکرز کا ایک گروپ وسطی ایشیا کے بین الاقوامی سیاحتی اور ثقافتی سفر پر روانہ ہوگیا، 15 بائیکرز کا یہ قافلہ اقتصادی تعاون تنظیم( ایکو)کے چار رکن ممالک پاکستان، افغانستان، تاجکستان اور ازبکستان کے مابین سیاحتی روابط کو فروغ دینے کی وسیع تر کوشش کا حصہ ہے۔
بائیکرز کو ٹی ڈی سی پی کے مینجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر ناصر محمود نے قذافی اسٹیڈیم لاہور میں واقع سیاحتی بس ٹرمینل سے رخصت کیا۔
ایکسپریس نیوز کو بائیکر گروپ کے لیڈر مکرم ترین نے بتایا کہ ان کا یہ سفر 23 دنوں پر مشتمل ہوگا، جس کے دوران بائیکرز تقریباً 5 ہزار کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتے ہوئے افغانستان، تاجکستان اور ازبکستان کے تاریخی، ثقافتی اور قدرتی مقامات کی سیر کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ وہ اسلام آباد سے کابل، قندھار، ثمرقند، بخارا اور تاشقند جائیں گے اور ان تاریخی شہروں میں قیام کریں گے، اس سفر کا بنیادی مقصد ان ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات، علاقائی دوستی اور ثقافتی ہم آہنگی کو فروغ دینا ہے۔
ایک اور بائیکر نذرسعید خان نے کہا کہ وسطی ایشیائی ریاستوں کا روٹ کافی عرصہ سے بند ہے ان کی کوشش ہوگی کہ وہ افغانستان، تاجکستان اور ازبکستان کے بائیکرز کلب سے ملیں اور انہیں بھی پاکستان آنے کی دعوت دیں، اس سے نہ صرف سیاحت کو فروغ ملے گا بلکہ ہمیں ایک دوسرے کے کلچر اور ثقافت کے بارے میں جاننے اور دیکھنے کا موقع ملے گا۔
ڈی ڈی سی پی کے مینجنگ ڈائریکٹر ڈاکٹر ناصر محمود نے وسطی ایشیائی ریاستوں کے اس سفر کو علاقائی دوستی، ثقافتی ہم آہنگی اور باہمی سیاحت کے فروغ کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا اور کہا کہ یہ بائیک ریلی نہ صرف لاہور کو 2027 میں سیاحتی دارالحکومت قرار دینے کی تیاریوں کا حصہ ہے بلکہ حکومت پنجاب کی جانب سے عالمی معیار کی سیاحتی سہولیات فراہم کرنے کے عزم کی بھی عکاس ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس طرح کی صحت مند اور مہماتی سرگرمیاں نہ صرف ویلنیس ٹورازم کو فروغ دیتی ہیں بلکہ دنیا کو پاکستان کی امن، ہم آہنگی اور دوستی کی تصویر بھی دکھاتی ہیں۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
پڑھیں:
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔ اسلام ٹائمز۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی صورتحال قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے اور فوری طور پر لڑائی روکنا ناگزیر ہے۔ اپنے ایک بیان میں انتونیو گوتریس نے کہا کہ اب واپس پلٹنے کا وقت آ گیا ہے اور ہر جگہ جنگ و جدل کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جا سکے۔
انہوں نے زور دیا کہ بحری راستوں پر آزادانہ آمدورفت بحال کی جائے، کیونکہ عالمی تجارت اور علاقائی استحکام کے لیے محفوظ بحری گزرگاہیں انتہائی اہم ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ موجودہ بحران سے نکلنے کا واحد مؤثر راستہ سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی حل ہے، اور تمام فریقین کو کشیدگی کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہییں۔