کراچی: ڈیفنس فیز 6 میں جنازے کے دوران فائرنگ، سینئر وکیل خواجہ شمس الاسلام جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
کراچی میں ڈیفنس کے علاقے میں جنازے کے دوران فائرنگ سے سینئر وکیل خواجہ شمس الاسلام جاں بحق ہو گئے۔ فائرنگ کے واقعے میں ان کا بیٹا زخمی ہو گیا۔کراچی کے علاقے ڈیفنس فیز 6 میں نماز جنازہ کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا جس میں معروف وکیل خواجہ شمس الاسلام جاں بحق ہو گئے، جبکہ ان کا بیٹا زخمی ہو گیا۔پولیس کے مطابق خواجہ شمس الاسلام کو پیٹ میں گولی لگی، جس کے باعث ان کی موت واقع ہوئی۔ فائرنگ کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب مسجد میں نماز جنازہ کی ادائیگی کی جا رہی تھی۔پولیس حکام نے بتایا کہ فائرنگ کرنے والا ملزم مسجد کے باہر موجود تھا اور فائرنگ کرنے کے بعد فرار ہو گیا۔ فرار ہوتے ہوئے ملزم نے کہا کہ ”میں نے اپنے باپ کا بدلہ لے لیا۔“پولیس نے وقوعہ پر موجود افراد کے بیانات قلمبند کر لیے ہیں اور واقعے کو ذاتی رنجش کا نتیجہ سمجھا جا رہا ہے۔پولیس کے مطابق خواجہ شمس الاسلام پر ماضی میں بھی فائرنگ ہو چکی ہے اور ان کے خلاف مخالفین نے مقدمہ بھی درج کرا رکھا ہے۔ شمس الاسلام اور پولیس اہلکاروں کے درمیان تلخ کلامی کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔پولیس نے واقعے کی مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں اور ملزم کی تلاش جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: خواجہ شمس الاسلام
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔