اگر آپ اپنے بچوں کو یہاں لانے کے لیے تیار نہیں تو لوگوں کے بچوں کو پاکستان کی سیاسی آگ کا ایندھن نہ بنائیں، سلمان غنی
اشاعت کی تاریخ: 2nd, August 2025 GMT
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)سینئر صحافی سلمان غنی نے عمران خان کےبچوں کے پاکستان نہ آنے کے حوالے سے خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہےکہ اگر آپ اپنے بچوں کو یہاں لانے کے لیے تیار نہیں تو لوگوں کے بچوں کو پاکستان کی سیاسی آگ کا ایندھن نہ بنائیں، ایک سیاسی لیڈر کو یہ بات نہیں کرنی چاہیے کہ اسکے بچے احتجاجی تحریک کا حصہ نہیں بنیں گے، جب آپ قوم کے بچوں کو احتجاج کے لیے اکسا رہے ہیں تو اپنے بچوں کو احتجاج سے دور کیو ں رکھ رہے ہیں۔ دنیا نیوز کے پروگرام 'تھنک ٹینک، میں گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ماضی میں جب ذوالفقار علی بھٹو جیل میں گئے تو بے نظیربھٹو میدان میں آئیں، نواز شریف جیل میں گئے تو مریم نوازمیدان میں آئیں۔ سلمان غنی کا کہناتھا کہ ہماری قومی سیاست کابڑاالمیہ یہ ہےکہ لیڈرشپ کو اتنا بااختیارکردیاجاتا ہے مختلف ایشوزپر پارٹی کےاندر مشاورت بھی نہیں ہوتی ، اس ہی وجہ سے تحریک انصاف میں کنفیوژن کا ماحول ہے، پارٹی کی اکثریت سڑکوں پر نہیں نکلنا چاہتی اور جو کوئی سڑکوں پر نکلنا چاہتا ہے تو ان کےساتھ جو کچھ ہوا وہ سب کومعلوم ہے۔انہوں نے کہاکہ لیڈرشپ ہمیشہ اپنے ورکرزکاسوچتی ہےاور حل تلاش کرتی ہے ، ماضی میں بھی سیاسی جماعتوں نے راستہ نکالا ہے، پیپلز پارٹی نے کڑا وقت دیکھا ،مسلم لیگ ن کی قیادت بھی جیلوں میں رہی لیکن انہوں نے اپنے لیےراستہ نکالا لیکن تحریک انصاف کا المیہ یہ ہےکہ عمران خان نہ خود راستہ نکال رہے ہیں اور نہ ہی کسی اورکونکالنےدےرے ہیں۔ان کا کہنا تھاکہ ڈیل اور ڈھیل پاکستان کی سیاست کا حصہ ہے، جن پر ہم ڈیل کا الزام لگاتے ہیں وہ خود سیاسی جماعتوں کے پاس نہیں جاتے بلکہ سیاسی جماعتیں ان کی طرف جاتے ہیں۔
لکی مروت: مارٹر گولہ پھٹنے سے 5 بچے جاں بحق، 12 زخمی
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: بچوں کو
پڑھیں:
گوگل کا ’گڈ مچھر بیڈ مچھر‘ نظریہ، امریکا میں لوہے کو لوہے سے کاٹنے کے لیے ’فورس‘ تیار
امریکی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل فلوریڈا اور کیلیفورنیا میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ مچھر چھوڑنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جس کا مقصد خطرناک مچھروں کی افزائش روکنا اور ان سے پھیلنے والی بیماریوں پر قابو پانا ہے۔ تاہم اس منصوبے نے ماہرین ماحولیات اور ناقدین میں کئی خدشات کو جنم دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ اتفاق نہیں: مچھر دوسروں کو چھوڑ کر آپ کے ہی پیچھے کیوں پڑجاتے ہیں؟
گوگل کے ’ڈی بگ‘ پروگرام کے تحت ایسے نر مچھر چھوڑے جائیں گے جنہیں ’اچھے مچھر‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ ان مچھروں میں قدرتی طور پر پائے جانے والے بیکٹیریا وولباخیا موجود ہوں گے جو جنگلی مادہ مچھروں کے ساتھ ملاپ کے بعد انڈوں کو پھوٹنے سے روک دیں گے یوں خطرناک مچھروں کی نسل بتدریج کم ہوتی جائے گی۔
گوگل کے مطابق یہ نر مچھر نہ کاٹتے ہیں اور نہ ہی بیماریاں پھیلاتے ہیں اس لیے یہ انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوں گے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد اچھے کیڑوں کے ذریعے برے کیڑوں کا خاتمہ ہے۔
ماہرین کے مطابق مچھر دنیا کے مہلک ترین کیڑوں میں شمار ہوتے ہیں جو ڈینگی، زیکا اور چکن گنیا جیسی خطرناک بیماریوں کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں۔
خاص طور پر ایڈیز ایجپٹی نسل کے مچھر ہر سال کروڑوں افراد کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔
مزید پڑھیے: مچھروں کو ملیریا سے بچانے کے لیے دوا ڈھونڈ لی گئی، آپ بھی چکرا گئے نا!
گوگل کا کہنا ہے کہ روایتی کیڑے مار ادویات وقت کے ساتھ کم مؤثر ہو رہی ہیں اور ان کے ماحولیاتی اثرات بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں اس لیے ایک نئے اور محفوظ طریقہ کار کی ضرورت ہے۔
کمپنی کے سائنس دانوں کے مطابق اس منصوبے میں نہ تو جینیاتی تبدیلی کی گئی ہے اور نہ ہی کسی قسم کے زہریلے کیمیکل استعمال کیے جائیں گے۔
جدید مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور خودکار نظام کے ذریعے مچھروں کی افزائش اور چھانٹی کی جائے گی تاکہ بڑے پیمانے پر ان کی رہائی ممکن ہو سکے۔
مزید پڑھیں: برازیل میں مچھر فیکٹری کا افتتاح، ہر ہفتے 19 کروڑ کی پیداوار، لیکن کیوں؟
گوگل اس منصوبے کے لیے وفاقی منظوری کا منتظر ہے۔ امریکی ماحولیاتی تحفظ ایجنسی اس وقت کمپنی کی درخواستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔
منصوبے کے مطابق پہلے سال فلوریڈا میں ایک کروڑ 60 لاکھ مچھر چھوڑے جائیں گے جبکہ باقی مچھر دوسرے مرحلے میں چھوڑے جائیں گے۔
دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں مچھروں کی رہائی کے طویل المدتی ماحولیاتی اثرات غیر متوقع ہو سکتے ہیں۔ بعض ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس اقدام سے قدرتی غذائی زنجیر متاثر ہو سکتی ہے اور ماحولیاتی توازن بگڑنے کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے: ’بہت دیر کی مہرباں آتے آتے‘: آئس لینڈ میں پہلی بار مچھر نمودار، یہ آ کیسے گیا؟
کچھ حلقوں نے اس بات پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ عوامی صحت کے نام پر بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو حیاتیاتی نوعیت کے وسیع منصوبوں میں کس حد تک اختیار دیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
گڈ مچھر بیڈ مچھر گوگل گوگل کے ’گڈ مچھر‘ اور ’بیڈ مچھر‘