جمہوریت کا احترام کریں، عمران خان کو منصفانہ ٹرائل دیں: قاسم خان
اشاعت کی تاریخ: 2nd, August 2025 GMT
لندن(انٹرنیشنل ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کے صاحبزادے قاسم خان نے کہا ہے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ وہ واحد عالمی رہنما ہیں جو ان کے والد کی رہائی کے لیے ان کے کیس پر کوئی فرق ڈال سکتے ہیں۔ عمران خان کے دونوں بیٹوں قاسم خان اور سلیمان خان نے برطانوی صحافی پیئرز مورگن کو ایک خصوصی انٹرویو دیا۔ دورومن انٹرویو قاسم خان نے بتایا کہ انہوں نے عمران خان کی رہائی ان کے خلاف مقدمات کے حوالے سے ٹرمپ کے قریبی ساتھی رچرڈ گرینل سے بھی ملاقات کی ہے، جو سوشل میڈیا پر عمران خان کی رہائی کے لیے متحرک رہے ہیں۔
واضح رہے کہ 26 سالہ قاسم خان اور 28 سالہ سلیمان خان نے رواں سال مئی میں پہلی بار اپنے والد کی قید کے خلاف عوامی سطح پر آواز اٹھائی تھی۔ جولائی میں علیمہ خان نے کہا تھا کہ دونوں بیٹے امریکا جائیں گے تاکہ وہاں سابق وزیراعظم کی رہائی کے لیے جاری سفارتی اور عوامی مہم کا حصہ بن سکیں۔ بعد ازاں دونوں بھائی واشنگٹن پہنچے جہاں انہوں نے امریکی قانون سازوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے ملاقات کی۔
پیئرز مورگن کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے قاسم خان کا کہنا تھا کہ ’ہم جانتے ہیں ہمارے والد اور صدر ٹرمپ کے درمیان ماضی میں خوشگوار تعلقات تھے۔ جب دونوں اقتدار میں تھے، تو ان کے درمیان گفتگو زبردست ہوتی تھی اور دونوں ایک دوسرے کا احترام کرتے تھے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ٹرمپ کوئی بیان جاری کریں یا پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ سے کسی سطح پر رابطہ کریں، تو وہ عمران خان کی رہائی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ عمران خان اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور ان پر 190 ملین پاؤنڈ کے کرپشن کیس میں سزا سنائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ، 9 مئی 2023 کو پاکستان میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کے بعد ان پر انسداد دہشتگردی ایکٹ کے تحت بھی مقدمات زیر سماعت ہیں۔ عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ یہ تمام کارروائیاں سیاسی انتقام کے تحت کی جا رہی ہیں۔
تین سال سے ملاقات نہیں ہوئی
قاسم خان نے بتایا کہ انہیں اپنے والد سے آخری بار ملاقات کیے تین سال ہو چکے ہیں جبکہ گزشتہ چار ماہ سے ان کی کوئی بات چیت بھی نہیں ہو پائی۔ قاسم نے اس صورتحال کو ”انتہائی تکلیف دہ“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ پہلے اپنے والد سے باقاعدگی سے رابطے میں رہتے تھے، لیکن اب انہیں اور ان کے بھائی کو مسلسل خاموشی کا سامنا ہے۔
دونوں بھائیوں نے کہا کہ وہ عام طور پر میڈیا سے گفتگو نہیں کرتے لیکن اب اپنے والد سے مسلسل لاتعلقی کے باعث مایوس ہو چکے ہیں۔
قاسم خان کے مطابق، جب انہوں نے پاکستان واپس جانے کی خواہش ظاہر کی تو انہیں حکومت سے، خاندان کے افراد سے اور دیگر ذرائع سے خبردار کیا گیا کہ ان کی گرفتاری عمل میں آ سکتی ہے۔ ’اس کے باوجود ہم ویزا کے لیے کوشاں ہیں، درخواست دی جا چکی ہے، لیکن تاحال کوئی جواب نہیں ملا۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔‘
خیال رہے کہ عمران خان کے دونوں بیٹوں نے پاکستان آنے کے لیے ویزا کی درخواست دے دی ہے، قاسم اور سلیمان نے ویزا کے حصول کے لیے پاکستانی ہائی کمیشن سے رجوع کرلیا ہے، جس کی تصدیق عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے بھی کی ہے۔
پاکستان میں گرفتاری کا خدشہ، لیکن واپسی کا عزم برقرار
قاسم خان کا کہنا تھا کہ وہ اور سلیمان گرفتاری کے باوجود پاکستان آنے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم جانتے ہیں خطرہ ہے، لیکن ہم ضرور جائیں گے، چاہے کسی کو اچھا لگے یا نہ لگے۔‘
اس دوران سلیمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگر انہیں پاکستان جانے کی اجازت نہ ملی، تب بھی وہ بیرون ملک سے اپنے والد کی رہائی کے لیے مہم جاری رکھیں گے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ اب تک برطانوی حکومت سے اس معاملے پر رابطہ نہیں کیا گیا۔
جمہوریت کا احترام کریں، عمران خان کو منصفانہ ٹرائل دیں
قاسم خان نے ریاستی اداروں کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان میں جمہوریت اور عوام کی رائے کا احترام کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستانی عوام نے گزشتہ سال فروری کے انتخابات میں، تمام تر دھاندلی کے باوجود، واضح فیصلہ دیا۔ اب قانون کی حکمرانی کا تقاضا ہے کہ عمران خان کو منصفانہ ٹرائل کا موقع دیا جائے۔‘
علیمہ خان کا انکشاف اور طلال چوہدری کا اعتراض
عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے یکم اگست کو بتایا تھا کہ سلیمان اور قاسم نے پاکستانی ویزے کے لیے لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن میں درخواست دی ہے اور وہ وزارت داخلہ کی منظوری کے منتظر ہیں۔ اس پر حکومت کی جانب سے تنقید بھی سامنے آئی۔
وزیر مملکت طلال چوہدری نے سوال اٹھایا کہ اگر دونوں بیٹوں کے پاس نائیکوپ (اوورسیز پاکستانی شناختی کارڈ) موجود ہے، تو انہیں ویزا کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اگر ویزا درکار ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ پاکستانی شہریت کے حامل نہیں، تو اصل معاملہ کیا ہے؟
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کی رہائی کے لیے عمران خان کی کہنا تھا کہ اپنے والد علیمہ خان کا احترام انہوں نے خان کے نے کہا کہا کہ
پڑھیں:
بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
میں مشہور ٹرانس جینڈر تلسی بٹ کی پوڈ کاسٹ دیکھ رہی تھی۔ یہ بڑا مظلوم طبقہ ہے جسے ہر جگہ پھٹکار ملتی ہے، دیگر خواجہ سراؤں کی طرح تلسی بھی کم عمری ہی میں گھر سے نکال دی گئی تھی، نو سال کی ننھی سی عمر میں اس کے والد نے اسے کسی خواجہ سرا کے سپرد کر دیا تھا، پھر وہ گیارہ سال کی عمر میں اپنے گھر واپس آئی تو لوگوں نے اس کے ساتھ زیادتیاں کیں، تلسی کے دو بھائی اور چار بہنیں ہیں، تلسی نے بہت پیسہ کمایا، وہ ایک نامور اور مشہور اسٹیج ڈانسر ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ خواجہ سراؤں کو رشتے خریدنے پڑتے ہیں، ورنہ ان کا سگا خون انھیں منہ نہیں لگاتا۔ پیدا کرنے والی ماں اجنبی بن جاتی ہے، تلسی نے بھی اپنے بھائیوں کو کاروبار کرایا، بہنوں کی شادیاں کیں، لیکن اس کی زخمی روح کو کوئی نہ سمجھ سکا۔ مجھے ٹرانس جینڈر سے ہمیشہ سے ہمدردی ہے، یہ راندۂ درگاہ لوگ بڑی اذیت بھری زندگی گزارتے ہیں، انھیں بھی خدا نے ہی پیدا کیا ہے، ان کی شخصیت میں جو نقص ہے وہ خدا کی طرف سے ہے، مغربی ممالک اور امریکا میں ان سے کوئی نفرت نہیں کرتا، بلکہ انھیں باعزت پیشوں سے منسلک کیا جاتا ہے۔
وہ میک اپ آرٹسٹ بنتے ہیں، فیشن ڈیزائنر بنتے ہیں اور عزت کی روٹی کھاتے ہیں جب کہ انڈیا، پاکستان اور بنگلہ دیش میں انھیں نہایت کم تر سمجھا جاتا ہے، انھیں نہ دفتروں میں ملازمت ملتی ہے نہ کہیں روزگار ملتا ہے، اسی لیے شام ہوتے ہی ان کے جھنڈ کے جھنڈ ٹریفک سگنلوں پہ بھیک مانگتے نظر آتے ہیں، جو خوبصورت ہوتے ہیں وہ جسم فروشی بھی کرتے ہیں کہ پیٹ تو کسی نہ کسی طرح بھرنا ہی ہوتا ہے، ان کے دل پر لگے زخم کسی کو نظر نہیں آتے، انڈیا میں ٹرانس جینڈر پر کئی فلمیں بنی ہیں، جیسے ’’تمنا‘‘ جس میں پاریش راول نے خواجہ سرا کا رول کیا ہے اور پوجا بھٹ نے ایک لاوارث لڑکی کا جس کا باپ صرف لڑکوں کو جینے کا حق دیتا ہے، لڑکیوں کو نہیں۔ اس لیے اس کی بیوی ایک نوزائیدہ بچی کو کچرے دان میں ڈال دیتی ہے، لیکن پاریش راول اسے سینے سے لگا لیتا ہے اور اس کی اچھی پرورش کرتا ہے۔
دوسری فلم جو ہمیں پسند آئی تھی وہ تھی ’’شبنم‘‘، جو بھارت کی پہلی خواجہ سرا سیاست دان ’’ شبنم ماسی‘‘ کی حقیقی زندگی پر بنائی گئی تھی اور شبنم کا رول کیا تھا آشتوس رانا نے، ان کے علاوہ ’’لکشمی‘‘ ،’’ چندی گڑھ کرے عاشقی‘‘، ’’سنگھرش‘‘، ’’مرڈر2‘‘ سرفہرست ہیں۔ ایک اور فلم مجھے بہت پسند آئی تھی، وہ تھی ’’درمیان‘‘ جس میں کرن کھیر نے زینت بیگم کا لازوال کردار ادا کیا تھا اور اس کا بیٹا جوکہ خواجہ سرا تھا اس کا رول عارف ذکریا نے ادا کیا تھا اور بہت خوب کیا تھا، وہ اپنی ماں کا میک اپ مین بن جاتا ہے، ایک اور فلم جو مجھے اور میرے شریک حیات کو بہت پسند آئی تھی، وہ تھی ’’سرداری بیگم‘‘ اس فلم میں بھی سرداری بیگم کا کردار کرن کھیر نے نبھایا تھا۔ پہلے انڈیا میں ہر سنیچر کو ایک آرٹ مووی ریلیز ہوتی تھی، جو فوراً پاکستان آ جاتی تھی۔ ہم دونوں آرٹ مووی شوق سے دیکھتے تھے، لیکن بعد میں وہاں بھی سب کچھ الٹ پلٹ گیا، اب وہاں بھی بے تکی اور جذبات ابھارنے والی فلمیں بنتی ہیں، لیکن پھر بھی سنجے لیلا بھنسالی کوئی نہ کوئی بہترین فلم پیش کر دیتے ہیں۔
تلسی بٹ کا انٹرویو دیکھ کر مجھے ایک پرانا اور مظلوم کردار یاد آگیا جس کا نام مسعود تھا، شاید میرا ہی ہم عمر تھا، یہی کوئی دس بارہ سال کا گورا رنگ، گلابی ہونٹ اور بڑی بڑی آنکھیں، اس وقت طارق روڈ پر شاپنگ مالز کا جنگل آباد نہیں ہوا تھا، دس بارہ گھر تھے بلاک 2 میں، چھت پر کھڑے ہو کر سارا منظر صاف نظر آتا تھا، مسعود کا سامنے کی لین میں تیسرا گھر تھا، اچھے لوگ تھے، جب کبھی کوئی نذر نیاز ہوتی تو مسعود ہی تمام گھروں میں نیاز لے کر آتا تھا، وہ چھٹی جماعت کا طالب علم تھا، ہمارے گھر سے اگر کہیں نیاز بھیجنی ہوتی تو ہمارے ملازم غازی اور شیر دل لے کر جاتے تھے، دونوں کی دوستی مسعود سے ہو گئی تھی، ایک دن ایسا ہوا کہ مسعود روتا ہوا ہمارے گھر آیا، والدہ اور والد نے رونے کا سبب پوچھا تو اس نے بتایا کہ باپ نے اسے گھر سے نکال دیا ہے، اس کے پاس کوئی ٹھکانہ نہیں تھا، اس لیے وہ یہاں آ گیا۔
وہ مسلسل رو رہا تھا اور گھر سے نکالنے کی وجہ نہ بتا پا رہا تھا۔ میرے والد اور والدہ اسے لے کر اس کے گھر پہنچے تو انکشاف ہوا کہ مسعود خواجہ سرا ہے، اسے اسکول والوں نے بھی نکال دیا ہے، سب کو پتا چل گیا ہے کہ معاملہ کیا ہے، اس کے والد کا کہنا تھا کہ ان کی تین بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں، اگر انھوں نے مسعود کو گھر میں رکھا تو بہنوں کے رشتے نہیں آئیں گے، والدہ البتہ رو رہی تھیں لیکن اسے رکھنے سے قاصر تھیں۔ میرے والدین نے انھیں بہت سمجھایا کہ اس میں مسعود کا کیا قصور ہے، لیکن وہ لوگ نہیں مانے اور اسے چند ہزار روپے دے کر کہا کہ وہ بس میں بیٹھ کر رنچھوڑ لین چلا جائے اور وہاں کسی سے پتا کرے کہ خواجہ سرا کہاں رہتے ہیں؟ میرے والدین مسعود کو گھر لے آئے اور اس کو کہا کہ وہ اب یہیں رہے، ہو سکتا ہے کچھ عرصے بعد والد مان جائیں، لیکن ایسا نہ ہوا بلکہ ہوا یوں کہ اس کے گھر والے اپنی کوٹھی کرائے پر دے کر کہیں اور چلے گئے، مسعود اس دن پھوٹ پھوٹ کے رویا، اب وہ ہمارے گھر کا فرد بن گیا، اسکول وہ جا نہیں سکتا تھا کیونکہ وہاں بچے اور ٹیچر اس کا مذاق اڑاتے تھے، لہٰذا مجھے جو ٹیچر پڑھانے آتے تھے ان سے کہا گیا کہ وہ مسعود کو نویں جماعت کی تیاری کروائیں۔
انھوں نے پہلے آٹھویں جماعت کا کورس اسے پڑھایا، پھر نویں کی تیاری کروانے لگے۔ میری والدہ نے مسعود سے کہا کہ وہ کوئی ہنر سیکھ لے تاکہ زندگی میں کام آئے۔ جب اس نے آمادگی ظاہر کی تو والدہ اسے تھوڑا تھوڑا کرکے کھانا پکانا سکھانے لگیں۔ نویں جماعت کا امتحان دے کر وہ فارغ تھا، اس لیے اس نے بڑی جانفشانی سے کھانا پکانا اور ڈائننگ ٹیبل پہ سرو کرنا سب کچھ سیکھ لیا۔ وہ ہمارے ساتھ ہی کھانا کھاتا، والد، والدہ، دادی اور میرے دونوں بڑے بھائی اس کا بہت خیال رکھتے تھے تاکہ وہ اپنا ماضی بھول جائے۔
کافی وقت گزر چکا تھا لیکن مسعود عید بقر عید پہ بہت اداس ہو جاتا تھا۔ وقت گزرتا رہا اور اس عرصے میں 1966 میں میری والدہ کا انتقال ہو گیا۔ چند ماہ بعد ہی میری سگی دادی اور رشتے کی پھوپھی نے میرے والد کی دوسری شادی کروا دی، اس عورت کی آنکھ میں مسعود کھٹکتا تھا، ہمارے پرانے ملازم غازی اور شیر خان واپس کوہاٹ چلے گئے کیونکہ والد کی دوسری بیوی کا رویہ ان کے ساتھ اچھا نہ تھا۔
وہ میری والدہ کو بہت یاد کیا کرتے تھے، چونکہ مسعود کو کھانا پکانا میری والدہ نے سکھا دیا تھا، وہ قورمہ، حلیم، بریانی، آلو گوشت، شلجم گوشت، نہاری، شب دیگ اور دم کا قیمہ بنانا سیکھ گیا تھا، لیکن کھانا والدہ خود پکاتی تھیں، کیونکہ میرے والد کو صرف امی کے ہاتھ کا کھانا پسند تھا، اب اس خاتون نے آرڈر جاری کر دیا کہ کھانا مسعود پکائے گا، وہ مہارانی بن کر بیٹھتی تھیں۔ اس عرصے میں والد صاحب نے مسعود کو ایک جاننے والے کے ورکشاپ میں لگوا دیا جہاں وہ گاڑیوں کی مرمت کا کام سیکھ رہا تھا، اس نے پرائیویٹ میٹرک اور انٹر کیا اور گیراج میں بھی خوب محنت سے کام کیا۔
میرے والد کے کئی دوست یوکے میں تھے، انھوں نے انھیں خط لکھا اور اس میں مسعود کی پوری کہانی لکھ دی، وہاں سے منصور صاحب کا پازیٹو جواب آ گیا، تب والد صاحب نے مسعود کو سارے حالات سے آگاہ کیا اور کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ مسعود ان کی زندگی میں سیٹ ہو جائے جو مسئلہ اس کے ساتھ تھا، اس میں یہی بہتر تھا کہ وہ پاکستان سے باہر چلا جائے۔ ایک ماہ بعد مسعود برطانیہ چلا گیا، جاتے وقت وہ پھوٹ پھوٹ کر رویا، پھر امی کی قبر پہ گیا اور ایک دن چلا گیا اپنا مستقبل بنانے۔
منصور صاحب اور ان کی بیگم نے اس کا بہت خیال رکھا، چونکہ اسے بہترین کھانا پکانا آتا تھا، اس لیے ایک سردار جی کے ہوٹل میں جاب مل گئی، پھر کچھ عرصے بعد ان سردار جی نے مسعود کو ہوٹل میں رہائش بھی دے دی۔ اس کے ہاتھ کے بنے ہوئے کھانے لوگوں کو بہت پسند آنے لگے، خاص کر آلو گوشت اور چنے کی دال گوشت کے علاوہ اسے یخنی پلاؤ بھی بہترین پکانا آتا تھا۔ سردار جی کی انکم اتنی بڑھی کہ انھوں نے دوسرا ہوٹل بھی کھول لیا، مسعود گوروں کے لیے ہر چیز ہلکی مرچوں کی بناتا تھا، اور دیسی لوگوں کے لیے خوب چٹخارے دار۔ مسعود اکثر والد کو خط لکھتا تھا اور کہتا تھا کہ ان کا فیصلہ بالکل درست تھا، یوکے میں اس کا ٹرانس جینڈر ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا تھا۔ وہ بہت خوش تھا، ایک دن ہمارے گھر ایک صاحبہ آئیں، بھابیاں تو پہچانتی نہیں تھیں لہٰذا انھیں ڈرائنگ روم میں بٹھا کر والد صاحب کو اطلاع دی گئی، وہ مسعود کی والدہ تھیں۔ اس کے والد کا انتقال ہو چکا تھا، بہنوں کی شادیاں ہو چکی تھیں، وہ مسعود سے ملنا چاہتی تھیں اور اپنے کیے پر شرمندہ تھیں۔