پاکستان اور کرغزستان کا کرپٹو، بلاک چین میں تعاون بڑھانے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 2nd, August 2025 GMT
وزیر مملکت برائے کرپٹو اور بلاک چین اور کرغزستان کی ڈائریکٹر نیشنل انویسٹمنٹ ایجنسی کے درمیان ایک اعلیٰ سطحی ویڈیو کانفرنس میں کرپٹو کرنسی، بلاک چین اور ڈیجیٹل فنانس پر تفصیلی گفتگو کی گئی، دونوں ممالک نے کرغزستان کی نیشنل انویسٹمنٹ ایجنسی کے ذریعے معلومات، تجربات اور بہترین طریقوں کے تبادلے پر زور دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان اور کرغزستان نے کرپٹو اور بلاک چین ٹیکنالوجیز کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے، اس سلسلے میں وزیر مملکت برائے کرپٹو اور بلاک چین بلال بن ثاقب اور کرغزستان کی ڈائریکٹر نیشنل انویسٹمنٹ ایجنسی فرخت امینوو کے درمیان ایک اعلیٰ سطحی ویڈیو کانفرنس ہوئی۔ ویڈیو کانفرنس میں کرپٹو کرنسی، بلاک چین اور ڈیجیٹل فنانس پر تفصیلی گفتگو کی گئی، دونوں ممالک نے کرغزستان کی نیشنل انویسٹمنٹ ایجنسی کے ذریعے معلومات، تجربات اور بہترین طریقوں کے تبادلے پر زور دیا، کرغزستان نے ڈیجیٹل اثاثوں میں جدت لانے اور ریگولیٹری ڈھانچے میں تعاون کے لیے اس شعبے میں اہمیت کا اظہار کیا۔
اس موقع پر بلال بن ثاقب نے کہا ہے کہ دونوں ممالک کا ورچوئل اثاثوں کی ترقی کے لیے اسٹریٹجک نقطہ نظر میں ہم آہنگی ہے اور پاکستان کرپٹو شعبے میں باقاعدہ شراکت داری کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تجویز پیش کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ دونوں ممالک کا عزم ہے کہ وہ محفوظ، شفاف اور جدید ڈیجیٹل معیشت کے لیے دو طرفہ تعاون جاری رکھیں گے اور وسطی و جنوبی ایشیا میں بلاک چین اور ڈیجیٹل فنانس کے فروغ کے لیے مشترکہ اقدامات کریں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نیشنل انویسٹمنٹ ایجنسی اور کرغزستان بلاک چین اور دونوں ممالک کرغزستان کی کے لیے
پڑھیں:
امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
واشنگٹن: امریکی محکمہ خزانہ نے ایران کے خلاف نئی پابندیوں کا اعلان کرتے ہوئے چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو کرنسی ایکسچینجز کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق پابندیوں کا مقصد ایران سے منسلک مالیاتی سرگرمیوں کو محدود کرنا اور ایسے نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا ہے جن پر امریکی حکام کو پابندیوں سے بچنے میں معاونت کا شبہ ہے۔
بیان میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان افراد اور اداروں کے ساتھ کاروبار یا مالی لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے، کمپنیاں اور افراد بھی امریکی پابندیوں کی زد میں آ سکتے ہیں۔ اس اقدام کے بعد بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے لیے ان نامزد اداروں سے تعلقات برقرار رکھنا مزید مشکل ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے مجوزہ حتمی منصوبے پر فوری ردعمل دینے کی خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی تک کوئی باضابطہ جواب نہیں بھیجا گیا۔
ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی تجویز پر ایران میں مختلف سطحوں پر مشاورت جاری ہے اور متعلقہ حکام اس منصوبے کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لے رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے تہران کسی بھی ممکنہ معاہدے میں صرف وعدوں پر انحصار نہیں کرنا چاہتا بلکہ ایسے ٹھوس اور حقیقی فوائد کا خواہاں ہے جو ایرانی عوام اور ملکی معیشت کے لیے عملی نتائج فراہم کر سکیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق نئی امریکی پابندیاں اور جاری سفارتی مذاکرات ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات میں ایک نئی پیچیدگی پیدا کر سکتے ہیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان کسی ممکنہ سمجھوتے کے امکانات پر بھی عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں۔